علاقائی استحکام کیلئے ایران-پاکستان-روس-چین کا قریبی تعاون ناگزیر ہے: بروجردی

اسلام آباد - ایرنا - اعلی ایرانی رکن پارلیمنٹ نے علاقائی امن و استحکام اور خوشحالی کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان، چین اور روس کے درمیان قریبی تعلقات اور مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور دیا.

يہ بات ايراني مجلس (پارليمنٹ) كي قومي سلامتي اور خارجہ پاليسي كميٹي كے سربراہ 'علاء الدين بروجردي' نے اپنے تين روزہ دورہ پاكستان كے اختتام پر اسلام آباد ميں پريس كانفرنس كرتے ہوئے كہي.



اس موقع پر انہوں نے كہا كہ ميرا پاكستان كا دورہ خارجہ پاليسي كميٹي كے سربراہ كي حيثيت سے اور اس كا مقصد دونوں ممالك كے تعلقات كا جايزہ لينا تھا. اس موقع پر اعلي پاكستاني حكام سميت سينيٹ اور پارليمنٹ كے سربراہوں سے بھي ملاقاتيں كيں.



بروجردي نے مزيد بتايا كہ پاكستان اور ايران كے گہرے تاريخي روابط ہيں. دونوں ممالك نے مشكلات اور جنگوں ميں ايك دوسرے كا ساتھ ديا. اس دورے كا مقصد تعلقات ميں نئي راہيں تلاش كرنا تھا. ايران پاكستان گيس پائپ لائن كي تكميل دونوں ممالك كے تعلقات كي ترجيح ہے.



انہوں نے بتايا كہ آئي پي گيس پائپ لائن ايران كي جانب سرحد كے 70 كلوميٹر تك پہنچ چكي يے . ايراني بندرگارہ چابہار اور پاكستان كي گوادر بندرگاہ كے درميان تعاون كو آگے بڑھايا جائے گا. ان بندرگاہوں كو وسطي ايشيا اور چين سے ملايا جائے گا.



بروجردي نے مزيد كہا كہ ايران اور پاكستان كے درميان انسداد منشيات كے حوالے سے بھي معاہدہ ہوا ہے، سيكورٹي اور سرحدي كميٹيوں پر بھي بات چيت ہوئي ہے.



انہوں بتايا كہ دونوں ممالك كے وزرا كے وفود كا بھي تبادلہ كيا جائے گا. تہران ميں بين الاقوامي فلسطين كانفرنس كا انعقاد كيا جائے گا. كانفرنس ميں شركت كيلئے پاكستاني سينيٹ كے چيئرمين رضا رباني اور اسپيكر سردار اياز صادق كو دعوت دي ہے. پاكستان اور ايران كا فلسطين پر موقف يكسان ہے.



بروجردي نے بتايا كہ پاك ايران سرحد پر دہشت گردي روكنے كيلئے مشتركہ سيكورٹي كميشن موجود ہے. كچھ عرصہ سے ان مسائل پر بات چيت كيلئے مشتركہ كميٹي فعال نہيں تھي. پاكستاني حكام كے ساتھ مشتركہ كميٹي كو فعال كرنے پر بھي بات ہوئي ہے.



اس موقع پر انہوں نے فلسطين اور كشمير كے حوالے سے كہا كہ مسئلہ فلسطين اور كشمير دونوں عالم اسلام كے اہم مسائل ہيں. مسئلہ فلسطين دنيا كا اہم مسئلہ ہے. مشرق و مغرب اس مسئلہ پر بات كر رہے ہيں. سرزمين فلسطين پر تاريخي ظلم ہوا ہے. فلسطينوں كو نكال كر ناجائز طور پر ايك نيا ملك تشكيل ديا گيا.



انہوں نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران اپنے تعلقات كو بروئے كار لاتے ہويے مسئلہ كشمير پر پاكستان اور بھارت تناؤ كے خاتمہ كيلئے تيار ہے تاہم اس مقصد كيلئے دونوں ممالك كا متفق ہونا ضروري ہے.



انہوں نے بتايا كہ پاكستاني سينيٹرز نے پاكستان، چين اور ايران كے اتحاد كي تجويز دي ہم نے تجويز پر رضا مندي كا اظہار كيا ہے.



بروجردي نے مزيد كہا كہ دوطرفہ تجارت كا موجودہ حجم غير تسلي بخش ہے. قوي اميد ہے كہ پاك ايران تعلقات بہتر ہوں گے. دونوں ممالك كي قيادتوں كے دورے تعلقات كے فروغ كي خواہش كے عكاس ہيں. پاك-ايران تجارت كا حجم ايك ارب ڈالر ہے تاہم حجم 5 ارب تك بڑھائيں گے.



علاقائي بحرانوں بالخصوص شام كي صورتحال كے حوالے سے ايراني ركن پارليمنٹ نے مزيد كہا كہ شام كا كوئي فوجي حل ممكن نہين بات چيت سے ہي بات بنے گي. ہم سب كو مدد كرنا چاہئے كہ شام كے عوام سے مكالمہ كے ذريعہ مسئلہ كا حل تلاش كيا جائے. شام، عراق اور روس كے ساتھ مل كر ايك تھنكنگ روم بنايا ہے جو كاميابي سے چل رہا ہے.



انہوں نے كہا كہ سعودي نام نہاد اسلامي اتحاد كا مقصد يمني مسلمانوں كا قتل عام ہے. دو برس ميں ہزاروں يمني عوام شہيد ہو چكے ہيں. يمن كي سنجيدہ صورتحال پر اقوام متحدہ نے بھي آواز اٹھائي ہے. اس اتحاد ميں ہماري شموليت خارج از امكان ہے. كوئي بھي اس اتحاد ميں شامل ہونا پسند نہين كرے گا.



افغان مسئلے كے حوالے سے بروجردي نے كہا كہ افغان عوام كو اپنے مستقبل كا فيصلہ خود كرنا چاہئے يہي وجہ ہے كہ شام كے بحران ميں بھي شامي عوام كي اپنے مستقبل كا فيصلہ كرنے پر زور ديا.



انہوں نے مزيد بتايا كہ ايران دہشت گر دي كا بڑا شكار رہا ہے 17 ہزار ايراني دہشت گردي كا شكار رہے ہيں. افغانستان ميں بھي دہشت گرد ناكام ہوں گے. افغانستان ميں امن كے قيام كيلئے پر اميد ہيں.



علاء الدين بروجردي گزشتہ رات اسلام آباد ميں اپني پريس كانفرنس كے بعد وطن واپس چلے گئے.



٢٧٤**