ڈیووس نشست میں ایرانی وزیرخارجہ کی شام امن مذاکرات اور ڈونلڈ ٹرمپ پر گفتگو

ڈیووس - ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے بدھ کے روز سوئس شہر ڈیووس میں منعقدہ سالانہ عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر ایک خصوصی نشست میں خطی اور عالمی مسائل، انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خطرات، شام کے حوالے سے آیندہ امن مذاکرات اور نئی امریکی حکومت پر روشنی ڈالی.

'محمدجواد ظريف' نے عالمي اقتصادي فورم كے موقع پر منعقدہ نشست ميں شريك اہم شخصيات، ماہرين اور صحافيوں كي جانب سے مختلف موضوعات پر كئے جانے والے سوالات كا جواب ديا.



اس موقع پر انہوں نے آستانہ ميں منعقد ہونے والے آئندہ شامي مذاكرات كے حوالے سے بتايا كہ ہم ساڑھے تين سال سے يہي كہہ رہے ہيں كہ مذاكرات سے پہلے اس كے نتائج پر قبل از وقت كچھ نہيں كہا جاسكتا.



انہوں نے مزيد كہا كہ اميد ہے كہ ايران سميت باقي ممالك كے تعاون سے جلد شامي بحران كو سياسي اور پُرامن طريقوں سے حل ميسر ہو.



ظريف نے اس بات پر زور ديا كہ شام كے مسائل كا حل فوجي طريقوں سے نہيں بلكہ باہمي مشاورت اور پُرامن مذاكرات سے ہي ممكن ہے.



اس موقع پر ايراني وزير خارجہ نے نئے امريكي حكومت اور منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ كے آئندہ لائحہ عمل كے بارے ميں كہا كہ في الحال ہميں صبر كرنا چاہئے اور ديكھان چاہئے كہ آگے كيا ہونا ہے. تاہم صدر اوباما كي انتظاميہ نے خلوص نيت سے كام نہيں كيا، اسي وجہ سے ايران عوام امريكہ اور اس كي پاليسيوں پر مثبت رائے نہيں ركھتے.



ظريف نے تہران،رياض تعلقات كے مستقبل كے حوالے سے كہا كہ ہم نہيں سمجھتے كہ ايران اور سعودي عرب كے درميان كشيدگي باقي رہے جبكہ دونوں ممالك مختلف عالمي مسائل بالخصوص شام، يمن اور بحرين پر دو طرفہ تعاون كرسكتے ہيں.



انہوں نے مزيد بتايا كہ ايران اور سعوديہ نے لبنان كے صدارتي انتخابات كے بحران كو حل كرنے كے لئے مشتركہ طور پر تعاون كيا اور اس حوالے سے دونوں ملكوں نے اچھي كاركردگي ديكھائي.



گزشتہ سال حج كے دوران منيٰ كے المناك سانحے ميں سينكڑوں ايراني حاجيوں كي شہادت كا ذكر كرتے ہوئے ايراني وزيرخارجہ نے بتايا كہ عادل الجبير ايران پر دہشتگردي كي حمايت كرنے كا الزام لگائے ہيں مگر سعودي عرب حقائق كو مسخ كرنے اور رائے عامہ كو گمراہ كرنے كي بجائے اس بات كو نہ بھوليں كہ اختلافات كو ہوا دينے سے خطے كو بڑے خطرات كا سامنا ہوگا.



انہوں نے مزيد كہا كہ نے كہا كہ عالمي پابنديوں كے باوجود اسلامي جمہوريہ ايران كي مختلف شعبوں ميں ترقي كي راہ ميں كوئي ركاوٹ نہيں آئي.



تفصيلات كے مطابق، ايراني وزير خارجہ منگل كے رات عالمي اقتصادي فورم ميں شركت كے لئے سوئس شہر ڈيووس پہنچ گئے. انہوں نے شام كے حوالے سے منعقد ہونے والي غيررسمي نشست ميں بھي شركت كي.



ان نشستوں كے موقع پر ايراني وزير خارجہ نے اپنے سوئس اور فن لينڈ كے ہم منصبوں كے ساتھ بھي ملاقاتيں كيں.



اس كے علاوہ ظريف اور يورپي يونين كي پاليسي چيف فدريكا موگريني كے درميان بھي ملاقات ہوئي جس ميں فريقين نے تازہ ترين علاقائي اور بين الاقوامي امور پر تبادلہ خيال كيا.



ڈيووس اجلاس ميں خطاب كے بعد ايراني وزير خارجہ ملائيشيا روانہ ہوگئے جہاں وہ ميانمار مسلمانوں كي صورتحال پر منعقد ہونے والے اسلامي تعاون تنظيم (OIC) وزرائے خارجہ كے اجلاس ميں شريك ہوں گے.



۲۷۴**