بيرون ملك بسنے والے ايرانيوں كي حمايت ميں كوئي تبديلي نہيں آئي: ركن ايراني پارليمنٹ

تہران - ارنا - ركن ايراني مجلس (پارليمنٹ) نے كہا ہے كہ بيرون ملك بسنے والے ايراني شہريوں كي حمايت كي پاليسي ميں كوئي تبديلي نہيں آئي اور نہ ہي مجلس يا حكومت كي جانب سے ايراني شہريت كے حوالے سے نئے قانون پر كام كيا جارہا ہے.

يہ بات ايراني مجلس كي كميٹي برائے امور اورسيز ايراني كے سربراہ امورعلامہ 'علي رضا سليمي' نے بدھ كے روز ارنا كے ساتھ گفتگو كرتے ہوئے كہي.



اس موقع پر انہوں نے كہا كہ بيرون ملك بسنے والے ايراني شہريوں كي حمايت كے لئے اعلي قومي سلامتي كونسل اور صدارتي دفتر كي جانب سے خصوصي سہوليات مقرر كي گئيں ہيں.



انہوں نے بتايا كہ فروري 2015 ميں صدر مملكت نے اعلي قومي سلامتي كونسل كي جانب سے پيش كردہ بل كي توثيق كي جس كے تحت اسلامي جمہوريہ ايران كے تمام اداروں كو بيرون ملك بسنے والے ايرانيوں كو خصوصي سہوليات اور مراعات دينے كے احكامات جاري كردئے گئے.



ايراني ضلع محلات سے ايراني پارليمنٹ كے نمائندے نے مزيد بتايا كہ ملك كے قانون كے مطابق ايران كے باشندے ہي ايراني شہري مانے جائيں گے اور ايراني شہريت اور پاسپورٹ ہونا پہلي ترجيح ہے لہذار متعلقہ اداروں كے اہلكار ملك ميں داخل ہونے والي اوورسيز ايرانيوں كے ساتھ كسي بھي امتيازي سلوك سے پرہيز كرنا چاہئے.



انہوں نے مزيد كہا كہ قانون كے مطابق غيرايراني شہريت ركھنا كوئي جرم نہيں ہے.



علي رضا سليمي نے بتايا كہ ايراني حكومت اور پارليمنٹ اوورسيز ايرانيوں كو قدر كي نگاہ سے ديكھتي ہيں جہاں تك كہ چھٹے ترقياتي منصوبے كے پانچ سالہ پروگرام ميں بھي بيرون ملك بسنے والے ايرانيوں كي بھرپور حمايت اور ان كو ملك كي ترقي اور خوشحالي كے عمل ميں شامل كرانے پر زور ديا گيا ہے.



۲۷۴**