شام امن عمل، آستانہ مذاكرات ميں امريكہ كا كوئي كردار نہيں ہوگا: ايڈميرل شمخاني

تہران - ارنا - اعلي ايراني قومي سلامتي كونسل كے سربراہ نے كہا ہے كہ ايران نے قازقستان كے دارالحكومت آستانہ ميں آئندہ شام امن مذاكرات ميں امريكي شركت كي مخالفت كي لہذا ان مذاكرات ميں امريكہ كا كوئي كردار نہيں ہوگا.

ايڈميرل 'علي شمخاني' نے بدھ كے روز اپنے ايك بيان ميں كہا كہ آستانہ ميں ہونے والے شامي حكومت اور باغي گروہوں كے درميان آئندہ مذاكرات ايران،شام اور روس كي مشتركہ حكومت عملي كا نتيجہ ہے لہذا مشتركہ طور پر امريكہ كو اس حوالے سے كوئي دعوت نہيں دي گئي.



اس موقع پر انہوں نے كہا كہ امريكہ گذشتہ سے اب تك شام ميں موجودہ بحرانوں كے حل كے لئے مذاكرات اور جنگ بندي سے مخالف تھا اور اسي ليے قازقستان كے دارالحكومت آستانہ ميں آئندہ ہونے والے شامي حكومت اور باغي گروہوں كے نمائندوں كے درميان مذاكرات ميں شريك نہيں ہونا چاہيئے.



شمخاني نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران شامي حكومت كي حمايت اور دہشت گردوں سے مقابلے كرنے ميں اہم كردار ادا كررہا ہے اور منعقدہ اجلاس ميں مثالي كردار ادا كيا جائے گا.



انہوں نے منعقد ہونے والے آيندے اجلاس ميں امريكہ كي موجودگي كي دعوے پر اپنے رد عمل كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ حتمي طور پر شامي امن مذاكرات ميں امريكہ موجود نہيں ہوگا.



تفصيلات كے مطابق، قازقستان كے دارالحكوت آستانہ ميں آئندہ ہفتوں تك شامي حكومت اور باغي گروہوں كے نمائندوں كے درميان نئے امن عمل كے تحت مذاكرات كا انعقاد كيا جائے گا اور اس حوالے سے تہران،ماسكو اور دمشق كے اعلي سياسي اور سيكورٹي حكام كے درميان مشاورت كا سلسلہ جاري ہے.



۹۳۹۳*۲۷۴**