امید ہے آئندہ شامی مذاکرات سے امن عمل آگے بڑھے گا: ایرانی صدر

تہران - ارنا - ایرانی صدر نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ قازقستان میں آئندہ ہونے والے شامی حکومت اور باغی گروہوں کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات سے شامی بحران کے خاتمے کے لئے امن عمل ک آگے بڑھے گا.

ان خيالات کا اظہار صدر مملکت 'حسن روحاني' نے بدھ کے روز ايران کے دورے پر آئے ہوئے شامي وزيراعظم 'عماد خميس' کے ساتھ ايک ملاقات ميں گفتگو کرتے ہوئے کيا.



اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آستانہ ميں ہونے والے امن مذاکرات سے تمام شامي فريقين کے درميان امن عمل کي راہ ہموار ہونے کے حوالے سے پُراميد ہيں.



شامي علاقے حلب کي آزادي اور اس ملک ميں جنگ بندي کے نفاذ کو اہم قرار ديتے ہوئے ايراني صدر نے بتايا کہ قازقستان کے دارالحکومت آستانہ ميں آئندہ امن مذاکرات سے شامي عوام اور تمام فريقين کے لئے تعميري نتائج نکلنے چاہئيں.



انہوں نے کہا کہ شام کے تمام دوس ممالک کي خواہش ہے کہ اس ملک کے مسائل جلد حل ہوں اور شامي عوام ہي اپنے مستقبل کے لئے فيصلہ کرسکيں.



صدر حسن روحاني نے اس بات پر زور ديا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کي قوم، حکومت بالخصوص سپريم ليڈر شام کي حمايت کرتے ہيں اور ہماري جانب سے يہ سلسلہ جاري رہے گا.



اس موقع پر انہوں نے ایران اور شام کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا.



اس نشست میں شامی وزیراعظم نے اعلی ایرانی رہنما آیت اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی کے انتقال پر ایرانی قوم اور حکومت کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا.



عماد خمیس نے مزید بتایا کہ حلب کی آزادی اور شام میں دہشتگردوں کے خلاف فتوحات شامی عوام کی جرات مندانہ مزاحمت بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی بے انتہا حمایت کا نتیجہ ہے.



انہوں نے کہا کہ آج شامی قوم اور حکومت اپنے ملک کے دفاع اور دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کے لئے پُرعزم ہیں.



علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے ایران کے اہم اور تعمیری کردار کا حوالہ دیتے ہوئے شامی وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ آستانہ میں منعقد ہونے والے آیند شام امن مذاکرات اس ملک کے بحران کے خاتمے کے لئے اہم قدم ثابت ہوگا.



انہوں نے ایران،شام مشترکہ تعاون کمیشن کی بحالی اور شام کے ترقیاتی اور دیگر منصوبوں میں ایرانی نجی شعبوں کی شراکت داری کا مطالبہ کیا.



274**