بین الاقوامی پانیوں کو دہشتگردوں سے خطرہ ہے: اعلی ایرانی سفارتکار

تہران - ارنا - ایرانی اسپیکر کے معاون خصوصی برائے بین الاقوامی امور نے افغانستان،شام اور عراق میں القاعدہ اور داعش کی موجودگی کی وجہ کو خارجی فوجی مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے جنوبی حصے میں موجود دہشتگردوں کے گھٹ جوڑ بین الاقوامی پانیوں کے لئے بڑا خطرہ ہے.

يہ بات سنئير ايراني سفارتكار 'حسين اميرعبدالھيان' نے گزشتہ روز ايران ميں تعينات مالي كے سفير 'بوبكر گورو ڈيال' كے ساتھ ايك ملاقات كے دوران گفتگو كرتے ہوئے كہي.



اس موقع پر انہوں نے يمن كے خلاف سعودي عرب كي فوجي جارحيت كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ دہشت گرد گروپوں يمن كے جنوبي حصے ميں بين الاقوامي پانيوں كي دھمكي دے رہے ہيں.



امير عبداللہيان نے مالي اسپيكر كے ايران كے حاليہ دورے كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ مستقبل قريب ميں مالي ميں منعقد ہونے والي اسلامي ممالك كے سربراہوں كي كانفرنس ميں اسلامي دنيا كي سلامتي اور امن كے اہم مسائل پر تبادلہ خيال كيا جائے گا.



اعلي ايراني سفارتكار نے كہا كہ تكفيري دہشت گردوں نے مغربي ايشيا اور افريقي ممالك كا نشانہ بنايا گيا مگر مالي اچھي طرح سے اس بحران سے اپنے خود ہي محفوظ كر سكا.



بوبكر گوروڈيال نے دونوں ممالك كے درميان ديرينہ تعلقات كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران اور مالي كے درميان پارليماني تعلقات كو فروغ دينا ضروري ہے.



انہوں نے كہا كہ مقبوضہ فلسطين كے بحران كے حل ہماري خارجي پاليسي كي اہم ترجيح ہے اور اس ملك كي حمايت ہميشہ جاري ركھے گا.



مالي كے سفير نے كہا كہ تمام ممالك كو دہشت گرد گروپوں سے مقابلہ كرنے كے لئے باہمي تعاون اور كوشش كرنا چاہيئے.



٩٣٩٣*٢٧٤**