ایران، آل سعود حکومت کے خلاف نہیں،علاقائی ممالک کی سالمیت کے حق میں ہیں: ایڈمیرل شمخانی

تہران - ارنا - اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کبھی بھی آل سعود حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ہم سعودی حکومت کو گرانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے خواہاں ہیں.

يہ بات ايڈميرل 'علي شمخاني' نے 'تہران خارجہ پاليسي سٹڈيز' نامي جريدے كو خصوصي انٹريو ديتے ہوئے كہي.



اس موقع پر انہوں نے كہا كہ ايران نے ہرگز آل سعود كي حكومت گرانے كي كوشش نہيں كي بلكہ ہم ايسي تمام كوششوں كو ناكام بنانے كے خواہاں ہيں كيونكہ سعودي عرب ميں آل سعود كي حكومت جانے سے كوئي اچھي حكومت آنے كي كوئي توقع نہيں ہے.



انہوں نے كہا كہ سعودي حكومت گرائے جانے كي صورت ميں انتہا پسندي اور تكفيري سوچ كے تحت اس ملك كو تقسيم كو ہوا ملے گي جس كے بعد داعش جسي تكفيري تنظيم اس ملك ميں حكمراني كرسكتي ہے.



ايڈميرل شمخاني نے اس بات پر زور ديا كہ ايران ہميشہ خطے ميں انتہا پسندي كے خلاف ڈٹ كر كھڑا ہے اور ہم علاقائي ممالك كي سالميت اور خودمختاري كي بھرپور حمايت كرتے ہيں.



انہوں نے مزيد بتايا كہ خطي ممالك كي تقسيم سے انتہا پسندي كو ہوا ملے گي جس سے اسلامي رياستوں ميں تكفيري اور انتہاپسندانہ سوچ ركھنے والے عناصر حكومت كرسكتے ہيں.



انہوں نے كہا كہ بدقسمتي سے آج ہم آل سعود كي غيرسنجيدہ علاقائي پاليسي كے نتائج كو شام اور يمن ميں ديكھ رہے ہيں جس كا مقصد دہشتگرد گروہوں كو مضبوط اور ان كو اپنے مقاصد كے لئے استعمال كرنا ہے.



شام كي صورتحال كے حوالے سے اسلامي جمہوريہ ايران كي واضح پاليسي اور مؤقف كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ شام كے بحران كے حل كيلئے اسلامي جمہوريہ ايران كے چار نكاتي امن منصوبہ مددگار ثابت ہوگا جس ميں پائيدار جنگ بندي كا نفاذ، ملك ميں اصلاحات كا آغاز، تمام شامي فريقين كے درميان مذاكرات اور شام ميں اليكشن كا انعقاد شامل ہے.



اعلي قومي سلامتي كونسل كے سيكرٹري نے اس بات پر زور ديا كہ صرف شامي فريقين كے درميان قومي مفاہمت اور مذاكرات سے ہي اس ملك كے بحران كا خاتمہ ہوسكتا ہے تاہم عوام كي امنگوں پر توجہ مركوز كرنے سے بھي ديرپا امن اور استحكام قائم كرنے ميں مدد ملے گي.



انہوں نے بتايا كہ بعض ممالك بالخصوص امريكہ چاہتے ہيں كہ شامي عوام كي جگہ پر ان كے لئے فيصہ كريں يا كہہ ديں گے كہ وہاں كون اليكشن ميں كھڑا ہوسكتا كون نہيں ہوسكتا، جبكہ ايسے اقدامات جمہوريت اور آزاد رائے كے اصولوں كي كھلي خلاف ورزي ہے.



ايڈميرل علي شمخاني نے تركي اور سعودي عرب كو مخاطب كرتے ہوئے كہا كہ شام كے حوالے سے يہ ممالك اپنے مؤقف واضح كريں، كيا وہ شام سميت اسلامي رياستوں كو تقسيم ہونے كا خيرمقدم كرتے ہيں؟ كيا سعودي عرب خطي ممالك كے تقسيم كے اثرات سے بچ سكتا ہے؟



۲۷۴**