جوہری معاہدہ کے ذریعے ایران نے اپنے اُپر گرائے جانے والے پابندیوں کے ملبے سے نجات حاصل کرلی

میڈرڈ - ارنا - نامور ایرانی سفارتکار اور اعلی قومی سلامتی کونسل کے سابق ڈپٹی کا کہنا ہے کہ ایران پر شدید عالمی پابندیوں کی شکل میں گرائے جانے والے ملبے کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی مگر ایران نے جوہری معاہدے کے ذریعے اپنے آپ کو اس صورتحال سے نکال لیا.

ان خيالات کا اظہار 'سيد حسين موسويان' جو اسلامي جمہوريہ ايران کي جوہري مذاکراتي ٹيم کے سابق سنئير رکن بھي ہيں، نے ايران جوہري معاہدے کے نفاذ کي پہلي سالگرہ کے موقع پر ارنا کے نمائندے ساتھ خصوصي گفتگو کرتے ہوئے کيا.



انہوں نے کہا کہ تقريبا تمام بين الاقوامي تجزيہ نگاروں اور ماہرين کي نظر ميں ايران پر مسلط کي جانے والي شديد عالمي پابندياں ايک خطرناک ملبے کي مانند تھيں مگر ايران نے جوہري معاہدے کے ذريعے اس ملبے سے نجات پالي.



انہوں نے بتايا کہ ايران کے پُرامن رويے اور جوہري معاملے پر طے پانے والے تعميري معاہدے کے باوجود اس وقت امريکہ ميں ايک ايسي لابي سرگرم ہے جس کا واحد مقصد جوہري معاہدے کي خلاف ورزي نہ کرتے ہوئے ايران پر دباؤ ميں اضافہ کرنا ہے.



موسويان جو امريکي يونيورسٹي پرنسٹن کے پروفيسر اور سنئير ريسرچ فلو بھي ہيں نے کہا کہ اس وقت امريکہ ميں ايران مخالف عناصر پر مشتمل ايک گروہ تشکيل پاچکا ہے جس ميں صہيوني لابي، تکفيري اعراب، نئے امريکي قدامت پسند عناصر اور حزب اختلاف کے لوگ شامل ہيں.



انہوں نے مزيد بتايا کہ حاليہ امريکي صدارتي انتخابات اور ريپبلکنز کي کاميابي کے بعد ايسي سازشوں کا آغاز ہوا ہے جس کے تحت ايران پر دباؤ ميں اضافہ کرتے ہوئے اسے جوہري معاہدے کي خلاف ورزي کرنے پر مجبور کيا جائے جس کے بعد عالمي برادري کي رائے پھر سے ايران کے خلاف ابھرے.



سيد حسين موسويان نے مزيد کہا کہ ايران جوہري معاہدے سے امريکہ اور ناجائز صہيوني رياست، سعود عرب اور اس کے اتحاديوں کے تعلقات ميں اختلافات کو ہوا ملي.



انہوں نے کہا کہ جوہري معاہدے کے بعد ايران مخالف سلامتي کونسل کي قراردادوں کا خاتمہ کيا گيا مگر اس سے زيادہ خطرناک اور ظالمانہ پابندي بشمول تيل، بينکاري اور سوئفٹ نظام کي پابنديوں کا خاتمہ بڑي بات تھي.



سابق ايراني جوہري مذاکرات کار نے بتايا کہ موجودہ حالات سے لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور ميں ديگر امور پر ايران اور امريکہ کے اختلافات ميں اضافہ ہوجائے.



۲۷۴**