پاک،ایران سرمایہ کاروں کی قانونی و عدالتی حمایت اہم ترجیح قرار

زاہدان - ارنا - ایران کے جنوب مشرقی صوبے کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان ایک دوسرے کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کی قانونی اور عدالتی حمایت کے لئے بھرپور اقدامات اٹھائیں.

يہ بات علامہ 'ابراہيم حميدي' نے گزشتہ روز صوبہ سيستان و بلوچستان كے دارالحكومت زاہدان ميں پاك،ايران عدالتي حكام كے مشتركہ اجلاس كے موقع پر ارنا كے نمائندے كے ساتھ گفتگو كرتے ہوئے كہي.



اس موقع پر انہوں نے كہا كہ ايران اور پاكستان كي جانب سے ايك دوسرے كے سرمايہ كاروں بالخصوص سرحدي صوبوں ميں سرگرم كاروباري حلقوں كي قانوني اور عدالتي حمايت كے لئے مزيد اقدامات كرنے ہوں گے.



انہوں نے بتايا كہ عدالتي اور قانوني تقاضوں كو پورا كرنے سے پاكستان اور ايران ميں سرمايہ كاري كے لئے دوطرفہ تجارتي حلقوں كے لئے راہ ہموار ہوجائے گي.



صوبہ سيستان و بلوچستان كے چيف جسٹس نے پاكستان اور ايران كے عدالتي حكام كے مشتركہ اجلاس كے حوالے سے كہا كہ اس نشست كا مقصد عدالتي،قانوني شعبوں ميں تعاون بڑھانے كا جائزہ لينا تھا اور دونوں ملكوں كے حكام نے سرحدوں پر مشكلات كا ازالہ بالخصوص شرپسندوں اور دہشتگرد عناصر كے خلاف مشتركہ اقدامات پر بھي تبادلہ خيال كيا.



انہوں نے كہا كہ سنہ 1960 ميں ايران اور پاكستان كے درميان ملزموں كے تبادلے پر مشتركہ تعاون طے پاگئے تھے اور اب دونوں ممالك اس معاہدے كے مكمل نفاذ پر بھي مشتركہ كوششيں كر رہے ہيں.



علامہ ابراہيم حميدي نے مزيد بتايا كہ كچھ ايراي شہري پاكستان كے جيلوں ميں قيد ہيں اور اسي بعض پاكستاني باشندے ہمارے جيلوں ہيں اور اس وقت دونوں ممالك ايك دوسرے كے قيديوں كي حوالگي كے بارے ميں بھي بات چيت كي ہے.



٢٧٤**