پاک،ایران وفود کے تبادلوں سے باہمی تعلقات کو مزید فروغ ملے گا: ایرانی گورنر جنرل

زاہدان - ارنا - ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان کے گونر جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں سے منسلک وفود کے تبادلوں سے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے مدد ملے گی.

يہ بات 'علي اوسط ہاشمي' نے گزشتہ روز پاكستاني صوبے بلوچستان كے ہائي كورٹ كے چيف جسٹس 'محمد نور مسكان زئي' كي قيادت ميں اعلي سطحي عدالتي وفد كے ساتھ ايك ملاقات ميں گفتگو كرتے ہوئے كہي.



اس موقع پر انہوں نے بتايا كہ سياسي، اقتصادي اور عدالتي شعبوں سے متعلق دوطرفہ وفود كے تبادلوں ميں اضافے سے پاك،ايران تعلقات كو مزيد وسعت ملے گي.



پاكستان اور ايران كي مشتركہ طويل سرحد كا حوالہ ديتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ دونوں ملكوں كے مشتركہ مواقع سے بھرپور استفادہ كرتے ہوئے ايك دوسرے كے عوام كي خوشحالي كے لئے اقدامات كرنے ہوں گے.



اعلي ايراني صوبائي عہديدار نے اس بات پر زور ديا كہ پاك،ايران تعلقات كو متاثر كرنے كے ہر اقدام پر دونوں ملكوں كي جانب سے كڑي نظر ركھنے كي ضرورت ہے.



علي اوسط ہاشمي نے بتايا كہ اسلامي جمہوريہ ايران اور پاكستان كے حكومتوں نے تعلقات كي توسيع كے لئے اچھے اقدامات اٹھارہي ہيں جن ميں سے ايك مشتركہ مقصد دونوں سرحدي صوبوں كي خوشحالي اور ترقي ميں اضافہ كرنا ہے.



فريقين نے اس نشست كے دوران پاك،ايران تعلقات بالخصوص اقتصادي، تجارتي، عدالتي اور قانوني شعبوں ميں دوطرفہ تعاون كو بڑھانے پر زور ديا.



انہوں نے كہا كہ دونوں ممالك مشتركہ تجارتي مواقع كے استعمال كے لئے سنجيدہ اقدامات كرنے كے لئے پختہ عزم ركھتے ہيں.



صوبہ سيستان و بلوچستان كے گورنر جنرل نے مزيد كہا كہ پاك،ايران مشتركہ سرحدي گيٹ پر قانون كي بالادستي كو قائم ركھتے ہوئے دونوں عوام كي قانوني طور پر آمد و رفت كو يقيني بنانا چاہئے اور ان علاقوں ميں غيرقانوني آنے جانے كي روك تھام كے لئے بھي پاكستاني صوبہ بلوچستان كے حكام اپني كوششوں ميں اضافہ كريں.



اس نشست ميں پاكستاني صوبہ بلوچستان كے چيف جسٹس نے كہا كہ ايران اور پاكستان خطے اور عالم اسلام ميں مشتركہ مفادات ركھتے ہيں.



جسٹس محمد نور مسكان زئي نے بتايا كہ دہشتگرد، مسلم امہ كا دشمن اور ان عناصر كا مقصد غيرانساني كارائيوں سے عالم اسلام كو شديد نقصان پہنچانا ہے.



انہوں نے كہا كہ ايران كے ساتھ ملحقہ سرحدوں كي نگراني اور امن كے قيام حكومت پاكستان كي پہلي ترجيح ہے اس لئے مشتركہ سرحدوں كي حفاظت كے لئے كسي بھي كوشش سے دريغ نہيں كيا جائے گا.



تفصيلات كے مطابق، پاكستان كے اعلي سطحي عدالتي وفود تين روزہ دورے پر سيستان و بلوچستان صوبے كے دارالحكومت زاہدان پہنچ گيا ہے اور اپنے قيام كے دوران وفد كے اراكين نے اعلي صوبائي حكام كے ساتھ ملاقاتيں كيں ہيں.



٢٧٤**