ایران کو یورینیم کی ترسیل میں کوئی پابندی نہیں: امریکہ

تہران - ارنا - امریکہ نے روس سے ایران کو خام یورینیم کی ترسیل پر شائع ہونے والی بعض رپورٹس کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کو یورینیم کی درآمد جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے.

تفصيلات كے مطابق، امريكي محكمہ خارجہ اور وائٹ ہاوس كے ترجمانوں نے شائع ہونے والي رپورٹس پر مزيد كہا كہ ايران كو يورينيم كي ترسيل ميں پابندي نہيں مگر ان كا باريكي سے معائنہ كي ضرورت ہے.



محكمہ خارجہ كے ترجمان 'جان كربي' نے اس حوالے سے بتايا كہ يورينيم كي خامل شكل كي درآمدات ميں كوئي پابندي نہيں كيونكہ اس نوعيت كے مواد سے ھتھيار نہيں بنائے جاسكتے.



انہوں نے كہا كہ جوہري معاہدے كي شرائط كے مطابق آئندہ 25 سال تك ايران كو خام يورينيم كي ترسيل ميں پابندي نہيں مگر يہ عمل شفاف ہونا چاہئے.



وائٹ ہاوس كے ترجمان 'جاش ارنسٹ' نے بھي كہا كہ جوہري معاہدے ميں ايسے موثر شرايط ركھي گئيں ہيں جس سے ہميں اطمينان ہو كہ ايران جوہري معاہدے پر عمل كرے گا.



امريكي نيوز ايجنسي ايسوسي ايٹڈ پريس نے اپني ايك خصوصي رپورٹ ميں سفارتي ذرائع كا حوالہ ديتے ہوئے كہا ہے كہ ايران ايٹمي ري ايكٹروں كو ٹھنڈے كرنے والے پاني (بھاري پاني) كي بھاري مقدار روس كو برآمد كرے گا اور اس كے بدلے ميں روس سے خام يورينيم درآمد كرے گا جبكہ اس فيصلے پر امريكہ سميت تمام عالمي طاقتوں كا پہلے سے بھي اعتماد ميں ليا گيا ہے.



۲۷۴**