مرحوم آیت اللہ رفسنجانی کا کردار اہم عالمی رہنماؤں اور شخصیات کی نظر میں

تہران - ارنا - دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان، اعلی رہنما اور مشہور عالمی شخصیات نے نامور ایرانی رہنما اور سابق صدر مرحوم آیت اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی کی وفات کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی خدمات تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھی جائیں گی.

ایران کی تشخیص مصلح نظام کونسل کے چیئرمین مرحوم آیت اللہ رفسنجانی اسلامی انقلاب کی اہم بنیاد اور انتہائی قابل گران شخصیت اور کردار کے مالک تہے.



آیت اللہ رفسنجانی (رہ) کے انتقال کو ابھی 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے ہیں مگر دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان بالخصوص اسلامی ریاستوں کے اعلی رہنما، حکومتی شخصیات نے ایرانی قوم، حکومت بالخصوص صدر مملکت حسن روحانی کے نام الگ الگ بیانات یا سماجی ویب سائیٹ ٹویٹر کے ذریعے سے تعزیتی اور یکجہتی کا پیغامات بھیجنے کا سلسلہ شروع کردیا.



ان ميں سے لبنان کي مزاحمتي تنظيم حزب اللہ کے سيکرٹري جنرل سيد حسن نصراللہ، قطر کے امير شيخ تميم بن حمد آل ثاني، تاجکستان کے صدر امامعلي رحمان، افغانستان کے چيف ايگزيکٹو عبداللہ عبداللہ، وزير اعظم پاکستان محمدنواز شريف، عراقي صدر فؤاد معصوم اور کے نائب نوري المالکي، اعلي عراقي اسلامي مجلس کے سربراہ سيد عمار حکيم اور مختلف غيرملکي اعلي شخصيات نے اپنے الگ الگ پيغامات ميں مرحوم آيت اللہ رفسنجاني کو خراج عقيدت پيش کرتے ہوئے ان کے علاقائي اور بين الاقوامي کردار کو سراہا.



ان کے علاوہ ترک وزير خارجہ مولود چاوش اوغلو، متحدہ عرب امارات کے وزيراعظم اور دبئي کے گورنر محمد بن راشد، اماراتي صدر اور ابوظبي کے گورنر شيخ خليفہ بن زايد، اماراتي وليعہد محمد بن زايد آل نہيان، اماراتي وزير مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش، سابق تاجک وزير خارجہ تلبک نظروف، کويتي امير شيخ صباح الاحمد الجابر الصباح اور ان کے جانشين شيخ نواف الاحمد الصباح، کويتي وزيراعظم شيخ جابر المبارک اور بحريني وزيرخارجہ خالد بن احمد بھي ان اعلي غيرملکي رہنماؤں ميں شامل ہيں جنہوں نے آيت اللہ رفسنجاني کے کردار اور ان کي خدمات کو سراہا.



پاکستانی وزیر اعظم 'محمد نواز شریف' نے کہا کہ آيت اللہ رفسنجاني مصالحتي امن کوششوں کے حوالے سے باثر شخصيت تھے جن کي خدمات کو قومي اور بين الاقوامي سطح پر ہميشہ سراہا گيا ہے.



لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ سیکرٹری جنرل ' سید حسن نصراللہ ' نے بتایا کہ مرحوم آيت اللہ رفسنجاني گزشتہ 34 سال سے اسلامي مزاحمتي عمل کے لئے ايک شفيق باپ، مفکر رہنما اور حمايت کرنے والي طاقتور شخصيت تھے. انہوں نے بتايا کہ آپ، ناجائز صہيوني رياست کے خلاف مزاحمتي عمل، فلسطيني عوام اور القدس کي آزادي کي بھرپور حامي تھے.



ترک وزیر خارجہ 'مولود چاوش اوغلو' نے اپنے ایک تعزیتی پیغام میں نامور ایرانی شخصیت اور سابق صدر مرحوم 'آیت اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی' کے انتقال پر ایرانی قوم اور حکومت کے ساتھ تعزیت کا اظہار کيا.



سابق ترک صدر 'عبداللہ گل' نے اپنے ایک پیغام میں مرحوم آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کے انتقال پر دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کے معزز خاندان اور ان کے عاليقدر بہائي ، ايراني عوام ، علماء اور مرحوم کے تمام شاگردوں اور دوستوں کو دل کي گہرائي سے تعزيت اور تسليت پيش کرتاہوں اور اللہ تعالي کي بارگاہ سے مرحوم کے درجات کي بلندي کے لئے دعا کرتا ہوں.



تاجکستان کے صدر ' امامعلی رحمان ' نے کہا کہ نامور ایرانی شخصیت آیت اللہ رفسنجانی کے انتقال سے ايران نے ايک عظيم مردم جاہد اور اسلامي انقلاب نے ايک مفکر کھو ديا.



افغانستان کے چیف ایگزیکٹو 'عبداللہ عبداللہ' نے کہا کہ باني اسلامي انقلاب حضرت امام خميني (رہ) کے روحاني فرزند اور بے مثال ساتھي آيت اللہ رفسنجاني کے انتقال نے ايراني عوام اور حکومت کو شديد صدمہ پہنچايا ہے.



عراق کی قومی اتحاد مجلس کے سرابراہ سید 'عمار حکیم' نے بتایا کہ آيت اللہ اکبر ہاشمي رفسنجاني کے انتقال پُرملال کے موقع پر سپريم ليڈر آيت اللہ خامنہ اي، مذہبي رہنماؤں، ايران کي عظيم قوم اور مرحوم کے لواحقين کو تعزيت پيش کرتا ہوں.



امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور 'انور قرقاش' نے کہا کہ ايک مفکر و حقيقت پسند شخصيت کي حيثيت سے مرحوم آيت اللہ ہاشمي رفسنجاني کے اپنے ملک کے لئے اصلاحاتي ايجنڈے کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات مسلم دنيا کے اتحاد کے لئے بھي مثالي ہيں اور انہوں نے اسلامي انقلاب کے دوران نہايت اہم کردار ادا کيا.



تاجکستان کے سابق وزیر خارجہ نے بتایا کہ آیت اللہ ہاشمی نے تاجکوں کے درمیان امن اور دوستی قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے اور ان کے صدارتی دوران کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات موجود تھا.



نامور تاجک مورخ ' نور علی دولت' نے بھی کہا کہ آیت اللہ رفسنجانی کے صدارتی دوران کے موقع پر آپ، ایرانی حکومت اور روسی حکومت نے تاجکستان میں امن قائم کرنے کے لئے بہت کوششیں کی ہیں.



تفصيلات کے مطابق؛ اسلامي جمہوريہ ايران کے سنئير رہنما اور باني اسلامي انقلاب امام خميني (رہ) کے قريبي دوست آيت اللہ اکبر ہاشمي رفسنجاني گزشتہ اتوار کي رات ۸۲ سال کي عمر ميں تہران ميں انتقال فرما گئے.



آيت الله رفسنجاني اسلامي انقلاب کے باني امام خميني (ره) اور سپريم ليڈر حضرت آيت الله العظمي خامنه اي کے قريبي ساتهيوں ميں سے تهے. اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد حضرت امام خميني (رہ) نے آپ کي صلاحيتوں کو سراہتے ہوئے اہم ذمہ دارياں سونپي.



مرحوم آيت الله اکبر ہاشمي رفسنجاني 1934 کو پيدا هوئے. انهوں نے ديني اور دنياوي تعليم ميں نماياں کارکردگي کا مظاهره کيا بعد ميں اسلامي انقلاب کي جد و جہد ميں بهر پور کردار ادا کيا.



مرحوم آيت اللہ رفسنجاني کا جنازہ کل بروز منگل سپريم ليڈر حضرت آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي کي امامت ميں ادا کيا جائے گا اور اس دن سرکاري سطح پر عام تعطيل ہوگي.



۲۷۴**