جنگ بندی اور مذاکرات سے انسداد دہشت گردی مہم پر اثر نہیں پڑنا چاہئے: شامی صدر

دمشق - ارنا - شام کے صدر نے کہا ہے کہ جنگ بندی اور سیاسی مذاکرات کے باوجودہ شام میں دہشتگردي بالخصوص داعش اور النصرہ فرنٹ جیسی دہشتگرد تنظيموں کے خلاف کاروائيوں کو نہیں رکنا چاہیئے.

يہ بات صدر ' بشار الاسد ' نے گزشتہ روز شام كے دورے پر آئے ہوئے ايران كي اعلي قومي سلامتي كونسل كے سيكرٹري ايڈميرل 'علي شمخاني' كے ساتھ ايك ملاقات كے دوران گفتگو كرتے ہوئے كہي.



اس موقع پر انہوں نے شام كي حاليہ كاميابيوں ميں اسلامي جمہوريہ ايران كے اہم كردار كو سراہتے ہوئے، دہشتگردوں كے خلاف مزاحمتي فرنٹ ميں ايران-شام-روس سہ فريقي تعاون جاري ركھنے پر زور ديا.



بشارالاسد نے اس بات پر زور ديا كہ شام ميں دہشت گرد گروہوں كے مكمل خاتمے تك انسدادي كاروائياں جاري رہيں گي.



انہوں نے خليج فارس كے بعض ممالك كي تباہ كن پاليسيوں كو شديد تنقيد كا نشانہ بناتے ہوئے مزيد كہا كہ شام كے بعض ہمسايہ ممالك دہشت گردوں كي حمايت كے ساتھ خطے ميں سلامتي اور امن كو خطرے ميں ڈال رہے ہيں جبكہ دہشت گرد نہ صرف خطے بلكہ پوري دنيا كے لئے بڑا خطرہ ہے.



اس نشست كے دوران ايڈميرل علي شمخاني نے شام ميں دہشتگرد اور تكفيري عناصر كے خلاف فتوحات اور بالخصوص عوامي مزاحمت عمل كي كاميابي پر صدر بشار الاسد كي كاركردگي اور ان كي حكمت عملي كو سراہا.



شام ميں جاري فائبندي كي خلاف ورزي پر بعض فريقوں كے بہانہ تراشي پر انتباہ كرتے ہوئے علي شمخاني نے مزيد كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران، شام ميں پائيدار جنگ بندي كا خواہاں ہے اور اس حوالے سے ہم سياسي عمل كو آگے بڑھانے كي بھرپور حمايت كرتے ہيں.



تفصيلات كے مطابق اسلامي جمہوريہ ايران كي اعلي قومي سلامتي كونسل كے سيكرٹري ايڈميرل 'علي شمخاني' شامي قيادت كے ساتھ مذاكرات كے لئے اتوار كے روز 'دمشق' پہنچ گئے.



دورہ دمشق كے موقع نائب ايراني وزير خارجہ برائے عرب اور افريقي امور 'حسين جابري انصاري' بھي علي شمخاني كے ہمراہ ہيں.



٩٣٩٣*٢٧٤**