آیت اللہ رفسنجانی کا انتقال/ایرانی صدر کا ملک بھر میں تین روزہ سوگ اور ایک روز تعطیل کا اعلان

تہران - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت 'حسن روحانی' نے ملک کی نامور سیاسی شخصیت مرحوم آیت اللہ 'اکبر ہاشمی رفسنجانی' کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر میں تین روز سوگ اور ایک دن سرکاری تعطیل کا اعلان کردیا.

صدر مملکت حسن روحاني نے اعلي ايراني شخصيت مرحوم آيت اللہ رفسنجاني کي رحلت کو اسلام، ايران اور اسلامي انقلاب کے لئے عظيم صدمہ قرار ديتے ہوئے کہا کہ آيت اللہ رفسنجاني کے انتقال سے اسلام نے ايک عظيم سرمايہ، ايران نے ايک عظيم مردم جاہد اور اسلامي انقلاب نے ايک مفکر کھو ديا.



انہوں نے مزيد کہا کہ باني اسلامي انقلاب حضرت امام خميني (رہ) کے روحاني فرزند اور بے مثال ساتھي آيت اللہ رفسنجاني کے انتقال نے ہميں شديد صدمہ پہنچايا ہے.



صدر روحاني نے بتايا کہ آيت اللہ رفسنجاني نے ملک ميں اسلامي انقلاب کے قيام اور ملک کي بقا کے لئے بہت قربانياں ديں. آپ ہرگز جنگ سے خوفزدہ نہيں تھے مگر ہميشہ امن و آشتي کو ترجيح دي، آپ اس قوم کے عظيم فرزند اور مرد مجاہد ہيں اور ہميشہ جنگوں کے مذاکرات کے ذريعے خاتمے پر زور ديتے رہے. آپ، باني انقلاب اسلامي امام خميني (رہ) کے محرم راز اور سپريم ليڈر آيت اللہ خامنہ اي کے بے مثال قريبي ساتھي تھے.



انہوں نے کہا کہ آيت اللہ رفسنجاني کا نام تاريخ ميں سنہري الفاظ سے لکھا جائے گا.



ايراني صدر نے کہا کہ آيت اللہ اکبر ہاشمي رفسنجاني کے انتقال پُرملال کے موقع پر مولا امام زمانہ (عج) کي خدمت ميں، سپريم ليڈر آيت اللہ خامنہ اي، مذہبي رہنماؤں، ايران کي عظيم قوم اور مرحوم کے لواحقين کو تعزيت پيش کرتا ہوں.



مرحوم آیت اللہ رفسنجانی کا جنازہ کل بروز منگل ادا کیا جائے گا اور اس دن سرکاری سطح پر عام تعطیل ہوگی.



تفصيلات کے مطابق؛ اسلامي جمہوريہ ايران کے سنئير رہنما اور باني اسلامي انقلاب امام خميني (رہ) کے قريبي دوست آيت اللہ اکبر ہاشمي رفسنجاني گزشتہ اتوار کي رات 83 سال کي عمر ميں تہران ميں انتقال فرما گئے.



آيت الله رفسنجاني اسلامي انقلاب کے باني امام خميني (ره) اور سپريم ليڈر حضرت آيت الله العظمي خامنه اي کے قريبي ساتهيوں ميں سے تهے. آپ ايران ميں سنہ 1989 سے 1997 تک صدارت کے عہدے پر فائز رہے تھے.



آيت اللہ ہاشمي رفسنجاني مجمع تشخيص مصلحت نظام کے سربراہ تھے جس کا کام پارليمان اور گارڈٰين کونسل کے درميان تنازعات کو حل کرنے کي کوشش کرنا ہے.



آيت الله رفسنجاني دل کار دورہ پڑنے سے تہران کے تجريش اسپتال کي انتہائي نگہ داشت يونٹ ميں رہنے کے بعد انتقال کرگئے.



٢٧٤**