9 جنوری، 2017 9:08 AM
News Code: 3395681
0 Persons
7 یورپی ممالک ایرانی تیل کے اہم گاہک

تہران - ارنا - عالمی پابندیوں کے دور میں ایرانی تیل کی برآمدات کی حجم میں کمی آئی تھی جبکہ جوہری معاہدے کے نفاذ اور پابندیوں کے خاتمے سے نہ صرف تیل برآمدات میں قابل قدر اضافہ ہوا بلکہ تیل کی خریداری کے لئے سات یورپی ممالک ایران کے اہم گاہک بن گئے.

يورپ كو ايراني تيل برآمدات كے حوالے سے تازہ ترين رپورٹ كے مطابق، گزشتہ نومبر تك ايران سے يورپ كو روزانہ 710000 بيرل خام تيل برآمد كي گئيں ہيں اور ان ميں سے سات يورپي ممالك بشمول فرانس، اسپين، يونان، اٹلي، ہنگري، رومانيہ اور نيدرلينڈ ايراني تيل كے اہم گاہك بن گئے ہيں.



ايران مخالف عالمي غيرمنصفانہ پابنديوں كے دور ميں يورپي ممالك كو تيل برآمدات ميں كافي مقدار ميں كمي آئي جبكہ تركي كو بھي روزانہ ايك لاكھ سے بھي كم تيل برآمدات كي جاتي تھيں مگر ايران جوہري معاہدے كے نفاذ سے اس صورتحال ميں تبديلي آئي ہے.



رپورٹ كے مطابق، پابنديوں كي وجہ سے سعودي عرب، عراق، نائيجريا اور روس نے يورپي ممالك كي تيل ضروريات كو پورا كرنے كے لئے ايران كي جگہ لے لي.



ايران جوہري معاہدے كے نفاذ سے ايران اور دوسرے ممالك كے درميان تيل شعبے ميں تعاون كي راہم ہموار ہوچكي ہے.



موجودہ ايراني حكومت كي جد و جہد بالخصوص عالمي طاقتوں كے ساتھ طے پانے والے تعميري مذاكرات سے آج ايران نے ايك بار پھر يورپي ممالك كے درميان اپني جگہ حاصل كرچكا ہے جس سے يورپ بالخصوص اٹيلي اور تركي كو تيل برآمدات ميں قابل قدر اضافہ بھي ہوا ہے.



آج عالمي ميڈيا بھي اس بات كا اعتراف كرچكے ہيں كہ جوہري معاہدے كے نفاذ كے بعد ايران كي تيل برآمدات ميں خاطرخواہ اضافہ ديكھنے ميں آيا ہے. اس حوالے سے لندن سے شائع ہونے والے پٹروليم آرگس جريدے كا كہنا ہے كہ عالمي پابنديوں كے خاتمے كے بعد ايراني تيل كي يورپي يونين اور تركي كو برآمدات ميں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ نومبر تك ايران سے ان ممالك كو روزانہ سات لاكھ 10 ہزار بيرل تيل برآمد كي گئيں ہيں.



۲۷۴**