ایران، جوہری معاہدے میں کامیاب رہا: روسی ماہر

ماسکو - ارنا - بین الاقوامی امور کے سینئر روسی تجزیہ نگار نے ایران اور مغرب کے درمیان طے پانے والا جوہری معاہدہ، اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے عالمی سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے کافی فائدہ مند ثابت ہوا ہے.

ولاديمير ساجين نے كہا كہ اس معاہدے كے نفاذ كے بعد اسلامي جمہوريہ ايران نے كاميابي كے ساتھ بين الاقوامي سطح پر اپنے آپ كو منوايا ہے اور ايران كے صدر حسن روحاني نے دنيا كے مختلف ممالك كے ساتھ تعلقات بڑھانے كيلئے كامياب دورے كئے ہيں.



انہوں نے كہا كہ جوہري معاہدے كے نفاذ كے بعد چين كے صدر نے ايران كا دورہ كيا اور اس موقع پر دونوں ممالك كے درميان 17 معاہدوں پر دستخط ہوئے اور يہ فيصلہ بھي ہوا كہ تہران اور بيجنگ كے درميان تجارتي اور اقتصادي لين دين كي سطح كو آئندہ 10 سالوں ميں 51 ارب ڈالر سے 600 ارب ڈالر تك پہنچايا جائے گا.



انہوں نے كہا كہ صدر مملكت حسن روحاني كا دورہ يورپ بالخصوص فرانس كا دورہ نہايت اہميت كا حامل ہے.



انہوں نے ايران كي تيل برآمدات كي پيداوار كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ ايران كي تيل كي پيداوار يوميہ3.9 ملين بيرل تك پہنچ گئي ہے اور 2.5 ملين بيرل برآمد كيا جا رہا ہے.



ولاديمير ساجين نے كہا ہے كہ اب ايران اپنے تيل كي آمدني سے ملك كے مختلف صنعتي يونٹس ميں سرمايہ كاري كر رہا ہے جس سے ايران ميں جوانوں كے لئے روزگار كے نئے مواقعے فراہم ہوئے ہيں.



انہوں نے ايران اور روس كے درميان سياسي اور ديگر مختلف شعبوں ميں ترقي كي اہميت كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ ايران اور روس بين الاقوامي سطح پر يكساں موقف ركھتے ہيں جو كہ خطے كي بگڑتي ہوئي امن اور امان كي صورت حال كے لئے فائدہ مند ثابت ہو گي.



271**