پاک،ایران دفاعی تعلقات میں توسیع ناگزیر ہے: پاکستانی جنرل

اسلام آباد - ارنا - پاکستان آرمی کے جنرل نے کہا ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات پر فخر کرتے ہیں اور سجھتے ہیں کہ دور حاضر میں ان دونوں طاقتور پڑوسی اور دوست ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعاون بالخصوص دفاعی تعلقات میں توسیع ناگزیر ہے.

ان خيالات كا اظہار پاكستان كي نيشنل ڈيفنس يونيورسٹي كے سربراہ ليفٹيننٹ جنرل 'نذير احمد بٹ' نے ارنا كے نمائندے كو خصوصي انٹريو ديتے ہوئے كيا.



اس موقع پر انہوں اسلامي جمہوريہ ايران كي قوم اور مسلح افواج كو ہفتہ دفاع مقدس كي مناسبت سے مباركباد پيش كي.



انہوں نے مزيد كہا كہ ايران اور پاكستان كے درميان عسكري اور دفاعي شعبوں ميں دوطرفہ تعاون بڑھانے بالخصوص مشتركہ دفاعي تربيتي كورس، دفاعي پيداوار، ٹيكنالوجي اور تجربات كے تبادلے اور مشتركہ فوجي مشقوں كے انعقاد كي ضرورت ہے.



پاكستاني جنرل نے كہا كہ پاك،ايران تعلقات قريبي اور دوستانہ ہيں اور اس ضمن ميں صدر حسن روحاني اور پاكستاني وزيراعظم محمدنواز شريف كے درميان اقوام متحدہ ميں ہونے والي حاليہ ملاقات دوطرفہ تعلقات كو مزيد فروغ دينے كے لئے اہم سنگ ميل ہے.



انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ پاكستان اور ايران كے درميان تمام سطحوں پر دفاعي تعلقات كو بڑھانے كے حوالے سے بات چيت ہوني چاہئے. دونوں ممالك كے حكام كي مختلف ملاقاتوں ميں دفاعي اور عسكري تعاون كي توسيع پر گفتگو ضروري ہے.



ايران اور پاكستان كے درميان فوجي اور عسكري شعبوں ميں افسروں كے تبادلے كا حوالہ ديتے ہوئے جنرل نذير بٹ نے مزيد كہا كہ ہم ايران كے ساتھ افسروں كے تبادلوں ميں اضافے كے خواہاں ہيں.



انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ اسلامي جمہوريہ ايران اور پاكستان دو پڑوسي ملك اور عالم اسلام كے طاقتور ممالك كي حيثيت سے علاقائي امن و استحكام كے لئے تعميري كردار ادا كرسكتے ہيں اور ہميں عالم اسلام كي وحدت كي خاطر ہميشہ ايك دوسرے كے ساتھ كھڑا ہونا چاہئے.





274**