انتشار ملک کے لئے نقصان دہ ہے: آیت اللہ خامنہ ای

تہران - ارنا - قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے وطن عزیز ایران کے خلاف دشمنوں کی مہم جوئی اور محاذ ارائی کے مقابلے میں ملی یکجہتی اور تعاون پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ انتشار سے ملک کو نقصان ہوگا اس لئے نظرات پر تضاد نہیں ہونا چاہئے.

ان خيالات کا اظہار سپريم ليڈر حضرت آيت اللہ العظمي 'سيد علي خامنہ اي' نے پير کے روز ديني طلباء کے ساتھ درس خارج فقہ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کيا.



اس موقع پر انہوں نے فرمايا کہ ايک صاحب ان کے پاس آئے تھے اور انہوں نے ان کو کو تجويز دي تھي کہ وہ مستقبل ميں ہونے والے ايک پروگرام ميں شرکت نہ کريں کيونکہ اس ملک ميں تضاد پيدا ہوگا.



سپريم ليڈر نے مزيد فرمايا کہ ميں نے ان صاحب کو اپنا مومن بھائي سمجھتے ہوئے يہ نصيحت کي تھي مگر يہ اس مسئلے سے غيرملکي ميڈيا بالخصوص بي بي سي سے کا کيا لين دين ہے؟



حضرت آيت اللہ خامنہ اي نے فرمايا کہ غيرملکي ميڈيا کي ايراني معاملات ميں مہم جوئي کا اصل مقصد يہ ہے کہ دشمن ان چيزوں کو ايران اور ايراني قوم کے خلاف استعمال کرے ہے مگر ہميں ان سازشوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا.



انہوں نے اس بات پر زور ديا کہ آج وطن عزيز کو تمام حلقوں بالخصوص باايمان افراد کے درميان مضبوط وحدت اور يکجہتي کي ضرورت ہے.



قائد اسلامي انقلاب نے مطالبہ کيا کہ بعض معاملات پر تضاد اور اختلافات سے گريز کرنا چاہئے.



انہوں نے مزید فرمایا کہ بعض عناصر وطن عزیز کے معاملات پر غیرضروری باتیں کرتے ہیں، ان باتوں سے کیا مراد، میں ان تمام عناصر سے زیادہ ان معاملات پر واقف ہوں اور ملکی حالات کو دیکھنے کے لئے پُرعزم ہوں اور جو حقیقتا ملک کی بھلائی اور اس کے مستقبل کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق ہوں، کیونکہ ہم اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں.



قائد اسلامی انقلاب نے مزید فرمایا کہ با ایمان بھائیوں کے درمیان نظرات پر تضاد یا انتشار کی ہرگز گنجائیش نہیں ہے، آج آپ ایک بات کہیں گے پھر دوسرا بندہ دوسری بات کرے گا، تیسرا بندہ کوئی ایک اور کرے گا اور تینوں فریقین کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کے بعد فائدہ اٹھانے والے عناصر اپنا کام کریں گے، اسی لئے ان چیزوں سے ہوشیار رہنا ہوگا.





274**