ایران کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے 'ذوالفقار' کی پروڈکشن لائن پر کام شروع

تہران - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے انتہائی جدید اور جنگی ٹیکنالوجی سے بنائے گئے 'ذوالفقار' نامی میزائل کی پیداوار کے عمل کا باضابطہ آغاز کردیا جو 700 کلومیٹر تک اپنے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے.

زمين سے زمين وار کرنے والے ذوالفقار ميزائل کي تقريب تعارف کے موقع پر ايراني وزير دفاع بريگيڈير جنرل 'حسين دہقان'، اعلي عسکريہ حکام اور ايراني دفاعي سائنسدان موجود تھے.



ايراني وزير دفاع نے اس موقع پر کہا کہ مسلح افواج کي جنگي ضروريات بالخصوص جديد ہتھياروں کي ساز و سازمان کي فراہمي کے لئے ايک موثر حکمت عملي اپنائي ہوئي ہے.



انہوں نے مزيد کہا کہ لانگ رينج گراؤنڈ ميزائل ذوالفقار ايراني ماہرين اور دفاعي سائنسدانوں کي جانب سے ڈيزائن اور تعمير کي گئي ہے.



وزير دفاع نے کہا کہ گزشتہ سالوں سے ايران نے دفاعي اور ميزائل شعبوں ميں ترقي کي ہے اور اس کا نتيجہ يہ ہے کہ آج ايراني سائنسدانوں اور مسلح افواج مزاحمت کي وجہ سے ايران کے دفاعي پروگرام اپنے صحيح سمت ميں آگے بڑھ رہا ہے.



انہوں نے مزيد کہا کہ دشمنوں کي طرف سے ايران مخالف رويہ بے نقاب اور يہ سازشيں ناکام ہوگئي ہيں.



اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اندروني وسائل سے تيار کئے جانے والے 'غدير، سجيل او خرمشہر' ميزائلوں کي باضابطہ پيداوار کے آغاز رواں سال کے آخر تک کيا جائے گا.



ايراني وزير دفاع نے مزيد کہا کہ ملکي ساخت تمام ميزائلوں کي رفتار تيز ہے اور مختلف سطح پر اپنے اہدف کو ٹھيک ٹھيک نشانہ بنا سکتے ہيں، جو تجربہ کيا گيا اس ميں اس کي کاميابي 100 فيصد تھي. يہ کروز ميزائل ہے جو رکاوٹوں کے باوجود سيدھا اپنے ہدف کي طرف لپکتا ہے.



انہوں نے مزيد کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران نے اپنے تمام ميزائلوں کا کامياب تجربہ کيا. يہ ميزائل طويل فاصلے تک روايتي ہتھيار لے کر ہدف کو نشانہ بناتا ہے.





274**