ایرانی صدر کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات/شام،یمن کی صورتحال پر تبادلہ خیال

نیو یارک - ارنا - اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل 'بان کی مون' نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت 'حسن روحانی' کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا ہے کہ ایران، شام اور یمن کے بحرانوں کو حل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے.

نيويارك كے مقامي وقت كے مطابق بدھ كے روز اقوام متحدہ كے ہيڈكوارٹر ميں بان كي مون كے ساتھ ايك ملاقات ميں باہمي دلچسپي كے امور پر تبادلہ خيال كيا.



صدر روحاني گزشتہ روز اقوام متحدہ كے 71ويں سالانہ اجلاس ميں شركت اور تقرير كے لئے نيو يارك پہنچے ہيں.



تفصيلات كے مطابق، ايراني صدر اور اقوام متحدہ كے سيكرٹري جنرك بان كي مون نے مختلف موضوعات پر بات چيت كي.



بان كي مون نے شام اور يمني مسائل كے خاتمے كے لئے پائيدار حكمت عملي اور حل ڈھونڈنے كي ضرورت پر زور ديتے ہوئے مزيد كہا كہ ايران خطے ميں بحران كے شكار ہونے والے ممالك كو مسائل كو كرنے كي بھرپور حمايت كرے.



ايران جوہري معاہدے كا ذكر كرتے ہوئے اقوام متحدہ كے سربراہ نے تمام فريقوں سے اس معاہدے پر اپنے وعدوں پر قائم رہنے اور سلامتي كونسل كي قرارداد نمبر 2231 كے احترام كرنے كا مطالبہ بھي كيا.



يمن كے امن مذاكراتي عمل ميں انصاراللہ كے نمائندوں كي شركت پر اس ملك كے بحران كے خاتمے كے لئے اہم قرار ديتے ہوئے بان كي مون نے صدر حسن روحاني اور اسلامي جمہوريہ ايران كے رہنماؤں سے درخواست كي كہ وہ انصاراللہ كے نمائندوں كو مذاكرات جاري ركھنے پر قائل كريں.



بان كي مون نے شام ميں جاري طويل عرصے سے خانہ جنگي كا حوالہ ديتے ہوئے ايراني صدر سے مطالبہ كيا كہ وہ اپنے اثر رسوخ اور ثالثي كے كردار كو بروئے كار لاتے ہوئے شام ميں امن مذاكرات كي بحالي كے لئے مدد كريں.





۲۷۴**