ایرانی صدر،ناروے وزیراعظم کی ملاقات/نارویجن کمپنیوں کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہیں: صدر روحانی

نیو یارک - ارنا - ایرانی صدر نے جوہری معاہدے کے بعد تہران اور اوسلو کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایران کے توانائی اور اقتصادی شعبوں میں نارویجن کمپنیوں کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہیں.

ان خيالات كا اظہار صدر مملكت 'حسن روحاني' نے نيو يارك كے مقامي وقت كے مطابق بدھ كے روز اقوام متحدہ كے 71ويں سالانہ اجلاس كے موقع پر ناروے كي خاتون وزيراعظم 'عرنا سولبرگ' كے ساتھ ايك ملاقات ميں كيا.



ايراني صدر نے مزيد كہا كہ تہران اور اوسلو كے تعلقات كو مزيد بڑھانے كے لئے جوہري معاہدے كے بعد سے پيدا ہونے والي سنہري مواقع سے بھرپور استفادہ كرنا چاہئے.



انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ دونوں ممالك كے درميان اقتصادي لين دين كے لئے اچھي قابليتيں موجود ہيں اور اس حوالے سے ہم نارويجن كمپنيوں كي ايران كے توانائي اور ديگر اقتصادي ميدانوں ميں سرمايہ كاري كا خيرمقدم كريں گے.



ايراني صدر نے ناروے كے ساتھ بينكنگ، سائنسي، ثقافتي اور ٹينكالوجي كے شعبوں ميں دوطرفہ تعاون بڑھانے كا مطالبہ كيا.



اس موقع پر علاقائي بحرانوں كا ذكر كرتے ہوئے انہوں نے كہا كہ ہم سمجھتے ہيں كہ خطے ميں مشكلات اور پيچيدگيوں كے باوجود ان مسائل كو حل كرنے كے لئے مذاكرات واحد راستہ ہيں.



انہوں نے مزيد كہا كہ بے شك باہمي مفاہمت كے ذريعے اگر ايك مشتركہ سياسي حل پر اتفاق كيا جائے تو دہشتگرد عناصر كو قلع قمع كرنے كے عمل ميں تيزي آئے گي.



صدر حسن روحاني نے اس بات پر زور ديا كہ علاقائي مسائل پر تہران اور اوسلو كے درميان باہمي مشاورت اور قريبي تعاون كي ضرورت ہے.



اس ملاقات كے دوران ناروے كي خاتون وزيراعظم نے كہا ہے كہ ان كا ملك ايران كے ساتھ صنعت اور ٹيكنالوجي شعبوں ميں دوطرفہ تعاون كي توسيع كا خواہاں ہے اور وہ اميد ركھتي ہيں كہ ايران جوہري معاہدے سے دونوں ملكوں كے درميان سازگار تعاون كي فضا كے قيام كے لئے مدد ملے گي.





۲۷۴**