ایران،فرانس صدور کی ملاقات/جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ پر زور

نیو یارک - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران اور فرانس کے سربراہان نے ایک ملاقات کے دوران مغرب اور ایران کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کی ضرورت پر زور دیا.

صدر مملكت 'حسن روحاني' نے دورہ نيو يارك كے موقع پر اورعالمي رہنماؤں كے ساتھ اپني اہم ملاقاتوں كے اگلے مرحلے ميں بدھ كے روز اپنے فرانسيسي ہم منصب 'فرانسوا اولانڈ' كے ساتھ ملاقات كي.



يہ ملاقات اقوام متحدہ كے 71ويں سالانہ اجلاس كے موقع پر ہوئي جس ميں دونوں سربراہان مملكت نے تہران،پيرس تعلقات اور دوطرفہ تعاون كو بڑھانے كے حوالے سے بات چيت كي.



اس موقع پر ايراني صدر نے يورپي رہنماؤں سے مطالبہ كيا كہ وہ يورپي بينكوں اور انشورنش كمپنيوں كے ايران كے ساتھ تعاون كے لئے سازگار فضا فراہم كريں اور غيرملكي اداروں كے لئے مشكلات سے دور ماحول كو يقيني بنائيں.



انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ جوہري معاہدے كے ذريعے حاصل ہونے والے مقاصد اور كاميابيوں كو ضائع نہ ہونے نہيں ديں بلكہ اس معاہدے كے مكمل نفاذ كے لئے تمام فريقوں كو سنجيدگي اور نيك نيتي كے ساتھ كردار ادا كرنے ہوں گے.



انہوں نے مزيد كہا كہ جوہري معاہدے پر عمل درآمد كرنے كي راہ ميں كوئي مخصوص ملك اپني يكطرفہ خواہشات كو تحميل كرنے كے عمل كو ہرگز تسليم نہيں كريں گے.



صدر روحاني نے ايران اور فرانس كے تعلقات كو مزيد توسيع دينے پر زور ديتے ہوئے كہا كہ ايران، فرانس كيساتھ اپنے تعلقات اور باہمي تعاون كو اہميت ديتا ہے اور ہم دونوں ملكوں كے درميان تمام شعبوں ميں مشتركہ تعاون كو مزيد بڑھانے كيلئے پُرعزم ہيں.



انہوں نے مزيد كہا كہ ايران اور فرانس كو اقتصادي اور سائنسي شعبوں ميں باہمي تعاون كے فروغ كے لئے جوہري معاہدے سے پيدا ہونے والے سنہري مواقع سے استفادہ كرنا چاہئے.



خطے ميں دہشتگردي كے مسئلے پر كا ذكر كرتے ہوئے مزيد كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران جو خود دہشتگردي كے شكار ہے، اس ناسور كے خاتمے كے لئے تمام علاقائي ممالك كے ساتھ تعاون كے لئے تيار ہے.



شام، يمن، عراق اور لبنان كي تازہ ترين صورتحال كا اشارہ ديتے ہوئے ايراني صدر نے كہا كہ شام كے بحران كو سياسي طريقوں سے حل كياجاسكتا ہے اور اس ملك ميں دہشتگردي كے خلاف مسلسل مہم، پائيدار فائربندي، پناہ گزينوں كي واپسي اور انساني ہمدردي كي امداد كو جاري ركھنے كي اشد ضرورت ہے.



انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ عراق اور يمن ميں بھي قيام امن و استحكام كے لئے يورپي ممالك بالخصوص فرانس كو كردار ادا كرنے كي ضرورت ہے.



صدر حسن روحاني نے مزيد كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران خطے ميں دہشتگردي كے خلاف جنگ اور علاقائي امن و سلامتي كے لئے يورپ بالخصوص فرانس كے ساتھ تعاون كے لئے تيار ہے.



اس موقع پر فرانسيسي صدر نے كہا كہ ان كا ملك اسلامي جمہوريہ ايران كے ساتھ تمام شعبوں ميں باہمي تعاون كو مزيد فروغ دينے كي خواہش ركھتا ہے.



خطے ميں ايران كے اہم كردار كا ذكر كرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ دہشتگردي كے مسئلے پر فرانس، ايران كے ساتھ تعاون كا خيرمقدم كرتا ہے.





274**