جوہری معاہدے سے اٹلی ایک بار پھر ایران کا اہم تجارتی پارٹنر بن سکتا ہے: صدر روحانی

نیو یارک - ارنا - ایرانی صدر نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والے مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے اٹلی کے پاس سنہری موقع ہے کہ ایک بار پھر وہ یورپی ملکوں کے درمیان اسلامی جمہوریہ ایران کا اہم اقتصادی اور تجارتی شراکت دار بن جائے.

يہ بات صدر مملكت 'حسن روحاني' نے بدھ كے ابتدائي اوقات ميں نيويارك ميں اطالوي وزيراعظم 'ماتيو رينزي' كے ساتھ ايك ملاقات ميں گفتگو كرتے ہوئے كہي.



اس موقع پر انہوں نے كہا كہ ايران اور اٹلي كے درميان حاليہ اعلي سطحي وفود كے تبادلوں سے باہمي تعاون كي توسيع اور دونوں ممالك كے عوام كے درميان تعلقات كے فروغ كے لئے مدد ملے گي.



انہوں نے ايران اور اور اٹلي كے نجي شعبوں بالخصوص اقتصادي، سياسي اور سائنسي شعبوں كے درميان باہمي تعاون كو بڑھانے پر زور ديا.



صدر روحاني نے كہا كہ ايران اور اٹلي كے نجي شعبے دوطرفہ تعاون بڑھانے كے خواہاں ہيں جس پر دونوں ممالك كي حكومتوں كو خاص طور پر توجہ ديني كي ضرورت ہے.



ايران اور گروپ 1+5 كے درميان طے پانے والے جوہري معاہدے كا ذكر كرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ جوہري معاہدے كے اہداف كے حصول كے لئے تمام فريق اپنے وعدوں پر قائم رہيں.



انہوں نے يورپي رہنماؤں اور حكام سے مطالبہ كيا كہ بينكنگ اور انشورنش كے شعبوں ميں دوطرفہ تعاون كو يقيني بنانے كے لئے ضمانتي اور مالي يقين دہانياں كرائيں جائيں.



ايراني صدر نے كہا كہ ہماري قوم اور كمپنيوں سميت تمام علاقائي كمپنيوں كو جوہري معاہدے كے فوائد سے مستفيد ہونا چاہئے.



اس موقع پر اٹلي كے وزيراعظم نے كہا كہ اگلے مہينوں تك ايك اعلي سطحي اطالوي وفد ايران كا دورہ كرے گا جس كا مقصد بينكنگ اور انشورنس شعبوں ميں دوطرفہ تعاون كو بڑھانا ہے.



انہوں نے كہا كہ اٹلي، اسلامي جمہوريہ ايران كے ساتھ علاقائي اور عالمي مسائل پر مشاورت كے لئے آمادہ ہے.





٢٧٤**