جوہری معاہدہ: ایران اپنے وعدوں پر پابند ہے،دوسرے فریق وعدہ نبھائے: صدر روحانی

تہران - ارنا - ایرانی صدر نے جوہری معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی سنجیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے اہم قدم اٹھایا ہے مگر اب دوسرے فریق کو اس سنہری موقع کا ادراک کرنا چاہئے.

ان خيالات كا اظہار اسلامي جمہوريہ ايران كے صدر مملكت 'حسن روحاني' نے بدھ كے ابتدائي اوقات ميں دورہ نيويارك كے موقع پر برطانوي وزيراعظم 'ٹريزا مے' كے ساتھ ايك ملاقات ميں كيا.



انہوں نے كہا كہ جوہري معاہدے كے تحت اقتصادي مواقع سے بھرپور استفادہ كرنا اسلامي جمہوريہ ايران كا حق ہے اور اس حوالے سے جب تك مغربي فرقي اپنے وعدوں پر قائم رہيں گے ايران بھي اپنا كردار ادا كرتا رہے گا.



انہوں نے جوہري معاہدے ميں موجود تمام فريقوں سے مطالبہ كيا كہ موثر طور پر اس عمل كو آگے بڑھائيں.



صدر روحاني نے اس بات پر زور ديا كہ جوہري معاہدہ تمام مسائل اور اختلافات كو مذاكرات كے ذريعے حل كرنے كے لئے ايك مثالي نمونہ ہے.



انہوں نے بتايا كہ جب تك بينكنگ اور انشورنس كے شعبوں ميں تكنيكي مسائل كا خاتمہ نہ كيا جائے تو جوہري معاہدے پر مغربي وعدے نامكمل رہيں گے.



حسن روحاني نے اس بات پر زور ديا كہ مغربي ممالك يورپي بينكوں اور ايران كے ساتھ سازگار ماحول ميں تعاون كو يقيني بنائيں تاہم اس حوالے سے برطانيہ اہم كردار كرسكتا ہے.



تہران اور لندن كے موجودہ تعلقات پر اطمينان كا اظہار كرتے ہوئے انہوں نے بتايا كہ باہمي احترام كے تحت دونوں ممالك كے درميان مشتركہ مفاد پر مبني تعاون كو فروغ مليں گے.



انہوں نے كہا كہ ايران اور برطانيہ كے درميان سياسي، اقتصادي اور ثقافتي شعبوں ميں باہمي تعلقات بڑھانے كي ضرورت ہے.



علاقائي صورتحال بالخصوص عراق، شام اور يمن كے مسائل كا ذكر كرتے ہوئے ايراني صدر نے كہا كہ خطي مشكلات كے خاتمہ كے لئے ايران يورپي يونين اور برطانيہ سميت علاقائي ممالك كے ساتھ تعاون كے لئے آمادہ ہے.



اس موقع پر برطانوي خاتون وزيراعظم نے تہران اور لندن كے بڑھتے ہوئے تعلقات كا ذكر كرتے ہوئے اسلامي جمہوريہ ايران كے ساتھ مختلف شعبوں ميں باہمي تعاون بڑھانے كا خيرمقدم كيا.



اسلامي جمہوريہ ايران كے صدر مملكت حسن روحاني اقوام متحدہ كے 71ويں سالانہ اجلاس ميں شركت كے لئے نيو يارك پہنچے ہيں جہاں وہ اقوام متحدہ ميں تقرير كے علاوہ مختلف عالمي رہنماؤں، اسلامي عمائدين اور نمائندوں كے ساتھ اہم ملاقاتيں كريں گے.





274**