دنیا کو آل سعود کی حکمرانی کے خاتمے کا انتظار

تہران - ارنا - گزشتہ سالوں سے سعودی عرب خطے اور دنیا میں خودساختہ مشکلات اور دلدل میں پھنس چکا ہے اور اس حوالے سے سیاسی ماہرین کا خیال ہے قریب مستقبل میں آل سعود کی عرصہ دراز کی حکمرانی کا خاتمہ ہوجائے گا.

يمن، شام، عراق، لبنان، ايران كے واقعات اور 11 ستمبر كے دہشت گردانہ واقعات اور دہشت گرد اور القاعدہ گروپوں كي حمايت اور مني المناك واقعے ميں آل سعود كے كردار كو منظر عام پر لايا جائے.



11 ستمبر سے ليكر اب تك رونما ہونے والے تمام دہشت گردانہ واقعات ميں سعودي عرب كے شہري براہ راست ملوث رہے ہيں، دہشت گردوں كو آل سعود اور سعودي شہزادوں كي مكمل حمايت اور پشتپناہي حاصل ہے.



سعودي عرب نے مني ميں ايراني اور غير ايراني حجاج كا قتل عام كيا.حج كے مناسك ميں سعودي حكومت كي بدانتظامي اور نااہلي كي وجہ سے ايك ہي دن ميں سات ہزار افراد شہيد ہوگئے كہ ان ميں سے شہيد ہونے والے ايراني حجاج كي تعداد 464 حاجي بهي شامل تهے.



عربستان كے ايك اور مسئلہ اپنے ہمسايہ ممالك جيسے كويت، قطر، متحدہ عرب امارات، يمن، عراق كے ساتھ سرحدي اور سياسي تنازعات ہے.



جنگ يمن نے سعودي عرب كے ليے بھاري اخراجات كو پيدا كرتے ہوئے اور اقتصادي ماہرين پيشن گوئي كي بنياد پر اس ملك نزديك آئندے ميں ديواليہ ہو جائے گا.



واضح رہے كہ آل سعود كي حكومت ميں حكومتي نظام موروثي ہے اور اس ملك كے عوام كا حكومتي امور كو چلانے اور قانون سازي ميں شركت كے سلسلے ميں كوئي كردار نہيں ہے۔



سعودي عرب كے جوانوں كي بے روزگاري اور خراب معاشي اور اقتصادي صورت حال كو آل سعود كے سقوط اور خاتمے كا ايك ممكنہ سبب ہے.



سعودي عرب نے ايران كے خلاف آٹھ سالہ جنگ ميں صدام كي بھر پورمالي اور سياسي حمايت كي.



علاقائي اور عالمي سطح پر دہشت گردي كے فروغ اور دہشت گردوں كي پشتپناہي ميں سعودي عرب كا اہم كردار ہے.



خطے ميں ايران كي فعال كرداركي واپسي كي وجہ سے سعودي تيل كے ڈالر كي سنہري دور ختم ہو چكا ہے.





۹۳۹۳*۲۷۴**