نائن الیون کے بعد دہشت گردی میں اضافہ ہوا: پاکستانی تجزیہ نگار

اسلام آباد - ارنا - سنئیر پاکستانی تجزیہ کار نے کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد ہونے والے واقعات سے خطے میں دہشت گردی میں بے پناہ اضافہ ہوا اور اس کے نتیجے میں افغانستان اور پاکستان سمیت مشرق وسطی کی سلامتی، سماجی اور اقتصادی صورتحال کو شدید نقصان پہنچا.

يہ بات 'امتياز گل' نے ارنا كے نمائندے كے ساتھ امريكہ ميں ہونے والے 11 ستمبر 2001 كے واقعات كي 15 سال گزرنے كے حوالے سے گفتگو كرتے ہوئے كہي.



انہوں نے كہا كہ امريكا نے 11 ستمبر كے حادثہ كو اپنے مفاد ميں استعال كرتے ہوئے دہشت گردي كا مقابلہ كرنے كے بہانے افغانستان پر حملہ كيا اور اس وقت سے لے كر اب تك افغانستان، پاكستان اور مشرق وسطي كے سلامتي اور استحكام كے حوالےسے بہت سي مشكلات كا سامنا ہے.



امتياز گل نے كہا كہ امريكا كي جانب سے افغانستان ميں دہشت گردي كا مقابلہ كرنے كا دعويٰ جعلي اور جھوٹ پر مبني تھا اور آج تك عراق اور افغانستان ميں امنيت نہيں آئي.



انہوں نے مزيد كہا كہ افغانستان اور عراق ميں دہشت گرد گروپ آزادانہ طور پر وحشيانہ جرائم كا ارتكاب كر رہے ہيں اور خطے كے ديگر ممالك نے افغانستان اور عراق كے دہشت گردي كے پھيلاؤ كے نتائج سے بچ نہيں گيا ہے.



انہوں نے كہا كہ اس مسائل نے پاكستان اور افغانستان كے درميان بڑھتي كشيدگي كا باعث بني ہوئي ہے.



اس موقع پر انہوں نے كہا كہ ٹوئن ٹاورز پرحملوں كے عوامل سب سے زيادہ سعودي تھے.





۹۳۹۳*۲۷۴**