آل سعود کو اسلامی عدالتوں کے کٹھرے میں لایا جائے: ایرانی مذہبی رہنما

تہران - ارنا - سنئیر ایرانی مذہبی رہنما نے سانحہ منیٰ پر سعودی حکام کے مجرمانہ کردار کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آل سعود کو اسلامی عدالتوں کے کٹھرے میں لاکر ان پر مقدمہ چلایا جائے.

ان خيالات كا اظہار آيت اللہ 'سيد احمد خاتمي' نے پير كے روز تہران ميں منعقدہ ہونے والي نماز عيد قربان كے خطبوں ميں كيا.



اس موقع پر انہوں نے كہا كہ گزشتہ سال سعوديوں كے ناقابل تلافي اور مجرمانہ اقدامات كي وجہ سے سات ہزار كے قريب مظلوم حاجيوں شہيد ہوگئے اور اس ہولناك سانحے كے خلاف قائد اسلامي انقلاب حضرت آيت اللہ خامنہ اي نے پُر زور آواز اٹھايا.



انہوں نے مزيد كہا كہ اس ميں كوئي شك نہيں ہونا چاہئے كہ سانحہ منيٰ پر آل سعود نہ صرف ملزم ہے بلكہ وہ اس غيرانساني جرم كي ذمہ داري ميں سرفہرست ہے.



آيت اللہ خاتمي نے اس بات پر زور ديا كہ حرمين شريفين كے انتظامات كے لئے عالم اسلام كے عمائدين اور دانشوروں پر اعلي شخصيات كے ايك وفد كے قيام كي ضرورت ہے كيوں كہ اب آل سعود كي حج امور كے حوالے سے نالايقي سامنے آچكي ہے.



انہوں نے مزيد كہا كہ عالمي ادارے بالخصوص نام نہاد انساني حقوق كے علمبرداروں نے سانحہ منيٰ كے حوالے سے انتہائي افسوسناك خاموشي اختيار كي.



انہوں نے كہا كہ منيٰ شہدا كا خون سعوديوں كے گريباں كو پكڑے گا اور ان كي بادشاہت كو ختم كرے گا.





۲۷۴**