جوہری صنعت میں تعاون،ایران اور روس کے تعلقات میں اہم سنگ قرار

بوشہر - ارنا - ایرانی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ نے ایران اور روس کے بڑھتے ہوئے روابط کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ جوہری شعبے میں مشترکہ تعاون ایران اور روس کے درمیان روابط میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا.

يہ بات ' علي اكبرصالحي ' نے ہفتے كے روز ايران كے جنوبي علاقے بوشہر ميں جوہري پلانٹ كے نئے يونٹس كي افتتاحي تقريب كے موقع پر روس كے جوہري حكام كے ساتھ پريس كانفرنس كرتے ہوئے كہي.



انہوں نے كہا كہ قائد اسلامي انقلاب حضرت آيت اللہ خامنہ اي كي ہدايات كے مطابق ايك خودمختار اور آزاد ملك ايران اور طاقتور ملك روس كے ساتھ مل كر بڑے بڑے كام سرانجام دے سكتے ہيں



انہوں نے مزيد كہا كہ عالمي تعلقات كو وسعت دينے پر ايراني صدر كے احكامات پر عمل كرتے ہوئے روس كے ساتھ تعلقات ميں توسيع كو ترجيح ديتے ہيں.



صالحي نے مزيد كہا كہ رواں سال ايران اور روس كے درميان تجارتي تعلقات كي حجم ميں 70 فيصد تك اضافہ ہوا ہے.



انہوں نے كہا كہ ہر بوشہر جوہري پاول پلانٹ ميں دو نئے يونٹس كي تعمير سے 11 ملين بيرل خام تيل 440 ملين ڈالر كے برابر بچت ممكن ہوگي.



انہوں نے مزيد كہا كہ اگر اس تين جوہري پلانٹ كي يونٹس كے ساتھ مل كر كام كريں تو 33 ملين بيرل تيل بچت كر سكيں.





9393*274**