جوہری معاہدہ، ایران اپنے وعدوں پر قائم ہے: اعلی امریکی عہدیدار

تہران - ارنا - امریکی وزارت خارجہ کے ایک سنئیر عہدیدار نے کہا ہے کہ گروپ 1+5 کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران اب تک اپنے تمام وعدوں پر قائم ہے.

يہ بات امريكي دفترخارجہ كے ڈپٹي ڈائريكٹر برائے امور ايران مخالف پابندي كي پاليسي 'كرس بيكماير' نے واشنگٹن ميں واقع اٹلانٹك كونسل تھينك ٹينك كي خصوصي نشست سے خطاب كرتے ہوئے كہي.



كرس بيكماير ان امريكي حكام ميں شمار ہوتے ہيں كہ ايران پر پابندياں لگانے كے عمل ميں براہ راست كردار ادا كرتے رہے ہيں.



تھينك ٹينك كے شركاء سے خطاب كرتے ہوئے انہوں نے كہا كہ جيسا كہ ہم سوچ رہے تھے جوہري معاہدہ موثر ثابت ہوا ہے اور ايران كي طرح امريكہ بھي اپنے وعدوں پر عمل كيا ہے اور جس جس پابنديوں كا نام ليا گيا تھا ہم نے ان كا خاتمہ كرديا.



گزشتہ دنوں عالمي جوہري تونائي ادارے (IAEA) نے ايراني ايٹمي سرگرميوں پر اطمينان كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران كي جوہري سرگرمياں ايران اور گروپ 5+1 كے درميان طے پانے والے جوہري معاہدے كے عين مطابق ہے.



عالمي جوہري تونائي ادارے كے ڈائريكٹر جنرل يوكيا امانو نے 5 صفحات پر مبني اپني رپورٹ كو 35 ركن ممالك كے نمائندوں كو بهجوا دي جس ميں كہا گيا ہے كہ كہ اسلامي جمہوريہ ايران كي جوہري سرگرمياں ايران اور گروپ 5+1 كے درميان ہونے والے جوہري معاہدے كے عين مطابق ہے.



اس رپورٹ كے مطابق، اسلامي جمہوريہ ايران كا تہران ريسرچ ري ايكٹر سينٹر (TRR) ميں آئوڈين اور زينون ريڈيوآئسوٹوپ كي پيداوار يا اس سے متعلق كسي قسم كي ري پروسيسنگ كي كوئي سرگرمياں نہيں كي جا رہي ہيں.





۲۷۴**