داعش کے اہم تجارتی مرکز پر قبضہ کرلیا گیا: عراقی کمانڈر

اربیل - ارنا - عراقی شہر 'نینوا' میں داعش کے خلاف جاری آپریشن کے سنئیر کمانڈر نے کہا ہے کہ ہم نے دہشتگردوں کے قبضے سے اہم تیل ذخائر چھڑالئے ہیں جن سے داعش دہشتگرد ماہانہ 10 لاکھ ڈالر کماتے رہے تھے.

يہ بات نينوا صوبے كے علاقے موصل ميں القيارہ آپريشن كے كمانڈر ميجر جنرل 'نجم الجبوري' نے ارنا كے نمائندے كے ساتھ خصوصي گفتگو كرتے ہوئے كہي.



اس موقع پر انہوں نے كہا كہ داعش كے دہشتگرد گرد موصل ميں موجود تيل ذخائر سے ماہانہ دس لاكھ ڈالر كماتے تھے اور يہ جگہ داعش كے اہم تجارتي مركز اور ذريعہ آمدني ميں شمار ہوتا تھا جس پر اب عراقي فورسز كا مكمل كنٹرول ہے.



انہوں نے مزيد كہا كہ القيارہ علاقے ميں ادھے سے زيادہ تيل كنووں پر داعش كا قبضہ تھا مگر اس وقت ان ذخائر سے دہشتگردوں كے قبضے كا خاتمہ كيا گيا ہے.



عراقي كمانڈر نے كہا كہ سيكورٹي فورسز نے اس وقت 60 تيل كنووں پر كنٹرول حاصل كيا ہے.



انہوں نے كہا كہ تيل ذخائر پر كنٹرول سے داعش دہشتگردوں كو سنگين نقصان پہنچا ہے.





۲۷۴**