ایران،سعودی عرب کے درمیان عمان کی ثالثی کی کوئی سرگرمی نہیں: ایرانی ترجمان

تہران - ارنا - ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے منیٰ سانحے کی تحقیقات اور سلطنت عمان کے مصالحتی کردار کے حوالے سے کہا ہے کہ منیٰ کے واقعے پر ایرانی حکومت کی تحقیقات جار ہیں اور اس کے علاوہ ایران،سعودی عرب کے درمیان عمان کی ثالثی کی کوئی سرگرمی نہیں ہے.

يہ بات 'بہرام قاسمي' نے پير كے روز تہران ميں اپني ہفتہ وار بريفنگ ميں صحافيوں سے گفتگو كرتے ہوئے بتائي.

انہوں نے عماني وزير داخلہ كے حاليہ دورہ ايران كا ذكر كرتے ہوئے مزيد كہا كہ اس دورے كے موقع پر ايران او عمان كے رہنماوں نے دوطرفہ تعلقات سميت خطي اور عالمي صورتحال پر تبادلہ خيال كيا.



انہوں نے مزيد كہا كہ عمان كے ساتھ ايران اور سعودي عرب كے درميان مصالحتي كردار ادا كرنے پر بات نہيں ہوئي ہے.



اس دوران انہوں ايران جوہري معاہدے كے نفاذ اور ايف اے ٹي ايف معاہدے (Financial Action Task Force) كے حوالے سے كہا ہے جوہري معاہدے اور ايف ٹي اے ايف كے درميان كوئي تعلق نہيں اور يہ دونوں الگ الگ موضوعات ہيں.



لبنان كي مزاحمتي تنظيم حزب اللہ كے حوالے سے انہوں نے كہا كہ حزب اللہ لبنان اور عالم اسلام كے لئے باعث فخر ہے.



ايران اور برطانيہ كے درميان سفارتي تعلقات كے حوالے سے انہوں نے كہا كہ دونوں ممالك تعلقات كے فروغ ہر كام كر رہے ہيں مگر روابط ميں توسيع كا مطلب تمام مشكلات كا خاتمہ نہيں ہے.



سانحي منيٰ كے حوالے سے ترجمان دفترخارجہ نے كہا كہ اس المناك واقعے ميں شہيد ہونے والے ايراني حاجيوں كے لواحقين كے حقوق معاملات كو ديكھ رہے ہيں اور اس واقعے پر ايراني تحقيقاتي كميٹيوں كے كام جاري ہے.



انہوں نے مزيد كہا كہ ايراني وزارت خارجہ اس حوالے سے ملكي اور بين الاقوامي ماہرين قانون كے ساتھ رابطے ميں ہے.





۲۷۴**