عالم اسلام حج کی خاطر سعودی عرب کے ظالمانہ رویے کا نوٹس لے: آیت اللہ خامنہ ای

تہران - ارنا - سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے حج کی مناسبت سے عالم اسلام اور مسلمانوں کے نام اپنے خصوصی پیغام میں فرمایا ہے کہ عالم اسلام بالخصوص اسلامی اقوام اور ممالک سعودی حکام کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتے ہوئے حج کی خاطر حرمین شریفین کے انتظامات کے لئے موثر حکمت عملی تلاش کریں.

قائد اسلامي انقلاب حضرت آيت اللہ العظمي 'سيد علي خامنہ اي' نے پير كے روز حج كي عظيم عبادت كي مناسبت سے اپنے پيغام ميں حج كو اسلام كي عزت اور عالمي سامراجي قوتوں كے خلاف ايك اہم پليٹ فارم قرار ديا.



سپريم ليڈر نے گزشتہ سال منيٰ ميں ہونے والے المناك سانحے كے نتيجے ميں ہزاروں حاجيوں كے جانوں كے ضياع كا ذكر كرتے ہوئے اس بات كا مطالبہ فرمايا كہ دنيا كے مسلمان ظالم سعودي حكام كو نہ چھوڑيں اور حرمين شريفين كے مستقبل ميں انتظامات كے حوالے سے موثر حكمت عملي اپنائيں.



انہوں نے مزيد فرمايا كہ جو لوگ حج كو صرف ايك زيارتي اور سياحتي سرگرمي تك محدود كرتے ہوئے اس كو سياسي مسئلہ بنا كر ايران كي مومن اور غيرتمند قوم كے ساتھ دشمني كرتے ہيں وہ صرف ايك پست اور ذليل شيطان ہيں جو بڑے شيطان، امريكہ كي ناراضگي اور غصے سے خوف و ہراس كا شكار ہيں.



حضرت آيت اللہ خامنہ اي نے فرمايا كہ سعودي حكام جنہوں نے ايراني مومن حاجيوں كو حرمين شريفين آنے سے روك ليا در حقيقت ان كے سر اپنے شرمناك اعمال سے جھكے ہوئے ہيں. سعودي حكام عالمي سامراجي قوتوں بالخصوص امريكہ اور ناجائز صہيوني رياست كے اتحادي ہيں اور ان كے احكامات پر عمل كرنے كے لئے كوئي كسر چھوڑتے.



انہوں نے مزيد فرمايا كہ گزشتہ سال مسجدالحرام اور منيٰ ميں دو ہولناك واقعے رونما ہوئے جس كي وجہ سے ہزاروں غريب اور نہتے حاجي شہيد ہوگئے اور ان تمام واقعات كا اصل ذمہ دار سعودي عرب ہے اور اس بات پر تمام موجودہ افراد، مبصرين، ماہرين اور تجزيہ نگار بھي اتفاق كرتے ہيں.



سپريم ليڈر نے فرمايا كہ سعودي حكام ان ہولناك سانحوں كے ذمہ داروں كي شناخت اور ان كو كيفر كردار تك پہنچانے كے لئے نہ كوئي تحقيقات كرائي نہ عالم اسلام كي سطح پر كوئي كميٹي تشكيل دي بلكہ سعودي عرب ملزم كي بجائے اپنے آپ كو مدعي ديكھايا اور اس رويے سے اسلامي جمہوريہ ايران اور ہر وہ خودمختار قوم جو اسلام كي حمايت اور سامراج كي مخالفت كرتا ہے، كے خلاف مزيد اپنے مكروہ چہرہ دنيا كو ديكھايا.



انہوں نے مزيد فرمايا كہ بعض رپورٹس كے مطابق سعودي عرب كے متعصب حكام نے ايراني حاجيوں كو حج پر جانے سے روكنے كے علاوہ بعض ديگر اسلامي ممالك كے غريب حاجيوں كو بھي حرمين شريفين كا سفر كرنے سے روك ديا ہے جس كا اصل مقصد امريكي اور صہيوني خواہشوں پر عمل كرنا ہے.



انہوں نے عالم اسلام بالخصوص اسلامي ممالك سے مطالبہ كيا كے حاجيوں كي بے عزتي كرنے اور عالم اسلام كو ناقابل تلافي صدمہ پہنچانے پر سعودي عرب كے خلاف اٹھ كھڑے ہوں اور حرمين شريفين كي موجودہ صورتحال كا نوٹس ليں.



قائد اسلامي انقلاب نے فرمايا كہ اے مسلمان بھائيوں اور بہنوں، اس سال ايران كے مومن اور غيور حاجي تو حج پر نہيں ہيں مگر ان كے دل و ذہن تمام مسلمان بھائيوں اور حج پر موجود حجاج كے ساتھ ہيں اور ہم تمام حاجيوں كي خير و عافت كے لئے دعا گو ہيں. اپنے ايراني بھائيوں اور بہنوں كو اپني نيك دعاوں ميں ياد ركھئے اور عالم اسلام كي سربلندي اور بالخصوص سامراجي نظام اور صہيونيوں كي تباہي كے لئے دعا كريں.





۲۷۴**