بینکنگ سہولیات کی عدم فراہمی کو پابندیوں کا جواز دینا غیرقانونی ہے: ایرانی مرکزی بینک

تہران - ارنا - ایرانی مرکز بینک کے سربراہ نے ملکی بینکوں اور مالی اداروں کو کہا ہے کہ امریکی اور یورپی سمیت عالمی پابندیوں کو جواز بنا کر ایرانی شہریوں اور اداروں کو بینکنگ سہولیات کی عدم فراہمی کا اقدام غیرقانونی ہوگا.

مركز بينك كے سربراہ 'ولي اللہ سيف' نے پير كے روز تمام ايراني بينكوں اور مالياتي اداروں كے نام اپنے خصوصي مراسلے ميں اس بات پر زور ديا كہ تمام بينك ملك كے موجودہ قوانين كے تحت اور بينكنگ-تجارتي شرائط كے مطابق سائلين اور اپنے گاہكوں كو خدمات فراہم كريں.



انہوں نے بينكوں اور مالي اداروں كے سربراہان كو مخاطب كرتے ہوئے مزيد كہا كہ جوہري معاہدے كے مطابق ايران كے خلاف تمام پابنديوں كا خاتمہ ہوچكا ہے اور سلامتي كونسل، امريكہ اور يورپي يونين كي پابنديوں كي فہرست ميں شامل ايراني شخصيات اور اداروں كے اسامي بھي مكمل طور پر ہٹايا گيا ہے.



مركزي بينك كے سربراہ نے مزيد كہا كہ پابنديوں كي فہرست سے ايراني شخصيات اور مالي اداروں كے نام خارج ہونے كا مطلب يہي كہ تمام غيرملكي بينك اور مالي اداروں ان افراد يا اداروں كے ساتھ نئے سرے سے تعاون قائم كرسكتے ہيں اور اس سلسلے ميں پھر سے پابنديوں كو جواز بنا كر سہوليات كي عدم فراہمي ايك غيرقانوني عمل ہوگا.



ولي اللہ سيف نے كہا كہ عالمي پابنديوں كے خاتمے كے باوجود بعض ايراني شخصيات اور تجارتي اداروں كے نام پابنديوں كي فہرست سے خارج نہ ہونا ہماري نظر ميں غيرقانوني ہے اور ہم ايسي پابنديوں كو تسليم نہ كرتے ہوئے ان كے نفاذ پر پابند نہيں ہوں گے.





۲۷۴**